انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 563 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 563

۵۶۳ گیارھویں پیشگوئی نصرت مالی کے متعلق تبشیری پیشگوئیوں میں سے دوسری مثال کے طور پر میں اس پیشگوئی کو پیش کرتا ہوں جو آپ کی مالی امداد کے متعلق کی گئی تھی- یہ پیشگوئی عجیب حالات اور عجیب رنگ میں کی گئی تھی اور درحقیقت آپ کی عظیم الشان پیشین گوئیوں میں سے یہ سب سے پہلی پیشگوئی تھی- اس کی تفصیل یوں ہے کہ ایک دفعہ آپ کے والد صاحب بیمار ہوئے- اس وقت تک آپ کو الہام ہونے شروع نہ ہوئے تھے` ایک دن جب کہ آپ کے والد صاحب کی بیماری بظاہر معلوم ہوتا تھا کہ جاتی رہی ہے صرف کسی قدر زحیر کی شکایت باقی تھی آپ کو سب سے پہلا الہام والسماء والطارق ہوا` چونکہ طارق رات کے آنے والے کو کہتے ہیں` اس لئے آپ نے سمجھ لیا کہ )اس میں موت کے آنے کی خبر ہے( اور آج رات ہونے پر والد صاحب فوت ہو جائیں گے اور یہ الہام بطریق ماتم پرسی ہے جو اللہ تعالیٰٰ نے بکمال شفقت آپ سے کی ہے اور آنے والی تکلیف میں آپ کو تسلی دی ہے چونکہ بہت سی آمدنیاں آپ کے خاندان کی آپ کے والد صاحب کی زندگی تک ہی تھیں کیونکہ ان کو پنشن اور انعام ملا کرتا تھا اسی طرح بہت سی جائداد بھی ان کی زندگی تک ہی ان کے پاس تھی` اس لیے اس الہام پر بوجہ بشریت آپ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ جب والد صاحب فوت ہو جائیں گے تو ہماری آمدن کے کئی راستے بند ہ وجائیں گے سرکاری پنشن اور انعام بھی بند ہو جائے گا اور جائیداد کا بھی اکثر حصہ شرکاء کے ہاتھوں میں چلا جائے گا س خیال کا آنا تھا کہ فورا دوسرا الہام ہوا جو ایک بڑی پیشگوئی پر مشتمل تھا اس کے الفاظ یہ تھے کہ الیس اللہ بکاف عبدہ کیا خدا تعالیٰ اپنے بندے کے لیے کافی نہ ہوگا- اس الہام میں چونکہ اللہ تعالیٰٰ کی طرف سے آ کے تکفل اور آپ کی ضروریات کے پورا کرنے کا وعدہ تھا- آ نے کئی ہندوؤں اور مسلمانوں کو اس کی اطلاع دے دی تا وہ اس کے گواہ رہیں اور ایک ہندو صاحب کو جو اب تک زندہ ہیں امرتسر بھیج کر اس