انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 547

۵۴۷ سے اینٹ بج گئی ڈلہوزی اور بکلوہ کی چھاؤنیوں کی عمارتیں بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئیں- دیگر شہروں اور دیہات کو بھی سخت صدمہ پہنچا اور بیس ہزار آدمی اس زلزلے سے موت کا شکار ہوئے- طبقات الارض کے ماہر حیران رہ گئے کہ اس زلزلے کا کیا باعث تھا مگر وہ کیا جانتے تھے کہ اس زلزلے کا باعث حضرت مسیح موعودؑ کی تکذیب تھی اور اس کی غرض لوگوں کو اس کے دعوے کی طرف توجہ دلائی تھی- وہ اس کا باعث زمین کے نیچے تلاش کر رہے تھے مگر درحقیقت اس کا باعث زمین کے اوپر تھا اور کانگڑے کی خاموش شدہ آتش فشاں پہاڑی اپنے رب کا حکم پورا کر رہی تھی اس زلزلے کے علاوہ آپ نے اور بہت سے زلزلوں کی خبر دی جو اپنے وقت پر آئے اور بعض ابھی آئیں گے- نویں پیشگوئی جنگ ِعظیم کی پیشگوئی جو سب دنیا کے لیے حجت ہوئی اور جس سے ثابت کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ جس طرح جمادات ونباتات پر حکومت رکھتا ہے اس طرح ان لوگوں کے دلوں پر بھی جو حکومت کے نشہ میں چور ہو کر اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی خدائی سے باہر سمجھتے ہیں نویں مثال میں ان پیشگوئیوں میں سے منتخب کرتا ہوں جو ساری دنیا کے لیے حجت ہوئیں اور جن سے یہ ثابت کیا گیا کہ اللہ تعالیٰٰ کے قبضہ قدرت میں اسی طرح ارباب حکومت کے دل بھی ہیں جس طرح کہ عوام کے اور اسی طرح انسان کی فرمانبرداری کرتا ہے جس طرح اور مخلوق یہ پیشگوئی ۱۹۰۵ء میں شائع کی گئی تھی اور اس مین اس جنگ عظیم کی خبر دی گئی تھی جس نے پچھلے چند سال دنیا کے ہر گوشہ کو حیران وپریشان کر رکھا تھا اور لوگوں کے حواس پر اگندہ کر دئیے تھے اور اب بھی اس کا اثر پوری طرح زائل نہیں ہوا بلکہ کہیں نہ کہیں سے اس کی آگ کا شعلہ سر نکال ہی لیتا ہے-