انوارالعلوم (جلد 7) — Page 501
۵۰۱ نسبت فرماتا ہے وعلمک مالم تکن وکان فضل اللہ علیک عظیما )نساء ع۱۷ :۱۱۴ کہ آپؐ کو وہ علم سکھایا ہے جو پہلے آپؐ کو معلوم نہ تھا اور پھر اور علوم کے اظہار کا وعدہ کرتا ہے اور یہ دعا سکھاتا ہے - قل رب زدنی علما )طہ :۱۱۵( پس ان آیات سے معلوم ہوا کہ ہر مامور کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص علم دیا جاتا ہے- چنانچہ اسی قسم کا علم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی دیا گیا صرف فرق یہ ہے کہ پہلے ماموروں کو تو صرف باطنی علم دیا جاتا تھا مگر آپ کو اپنے مطاع اور آقا آنحضرت ﷺکی اتباع میں ظاہری اور باطنی دونوں قسم کا علم دیا گیا- یعنی علم روحانی بھی دیا گیا- اور اس کے بیان کرنے کا اعلیٰ طریق بھی بخشا گیا اور اللہ تعالیٰٰ نے دونوں باتوں میں آپ کو بے نظیر بنایا` نہ تو علوم باطنیہ کے جاننے میں کوئی شخص آپ کا مقابلہ کر سکتا ہے اور نہ ان کے بیان کرنے میں کوئی شخص آپ کا مقابلہ کر سکتا ہے- ان دونوں قسم کے علموں میں سے پہلے میں ظاہری قسم کا علم لیتا ہوں- یہ معجزہ آپ سے پہلے صرف نبی کریم ﷺکے ذریعے ظاہر کیا گیا ہے- پہلے انبیاء میں اس کی نظیر نہیں ملتی آنحضرت ﷺپر جو وحی نازل ہوئی اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے- وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورة من مثلہ وادعوا شھداء کم من دون اللہ ان کنتم صادقین )بقرہ ع۳ : ۲۴( کہہ دے اگر تم کو اس کتاب کے سبب جو تم نے اپنے اس بندے پر نازل کی ہے شکوک وشبہات پیدا ہو گئے تو پھر اس کی ایک سورۃ جیسی ہی کوئی عبارت لے آؤ- اور اس کی تیاری کے لیے اللہ تعالیٰ کے سوا جس قدر تمہارے بزرگ ہیں سب کو اپنی مدد کے لیے جمع کر لو` مگریاد رکھو کہ پھر بھی تم اس کی مثال لانے پر قادر نہیں ہو سکو گے اس آیت میں ہر قسم کی خوبیوں میں قرآن کریم کو بے مثل قرار دیا گیا ہے جن میں سے ایک خوبی ظاہری خوبی بھی ہے قرآن کریم کی فصاحت کی طرف اور جگہوں پر بھی اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے چنانچہ فرماتا ہے کتاب احکمت ایتہ ثم فصلت من لدن حکیم خبیر )ھود ع۱ :۲( یہ کتاب ایسی ہے کہ اس کے احکام نہایت مضبوط چٹان پر قائم کئے گئے ہیں اور پھر ان کو بے نظیر طور کھول کر بیان کیا گیا ہے اس خدا کی طرف سے جو بڑی حکمتوں کا مالک ہے اور واقعات سے باخبر ہے یعنی حکیم کی طرف سے پر حکمت کلام ہی آنا چاہئیے اور خبیر جانتا ہے کہ اب علمی زمانہ شروع ہونے والا ہے اس لیے علمی معجزات کی ضرورت ہے- پس اس نے قرآن کریم کی زبان کو مفصل بنایا ہے- یعنی وہ اپنی وضاحت آپ کرتا ہے اور اپنی خوبی کا خود شاہد ہے-