انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 32

۳۲ اسی طرح کوئی شخص خدا تعالی ٰرسولوں ملائکہ اور قیامت پر ایمان رکھے مگر ان کی حقیقت پر ایمان نہ رکھتا ہو تو وہ بھی مومن نہیں ہو سکتا۔پس ان کی حقیقت پر ایمان لاؤ کہ تم کو فائدہ ہو- ہر ایک بات جوخد اتعالی ٰ،ملائکہ ، رسولوں اور قیامت اور قدر کے متعلق ہو مگر تم اس کو پھیر کراپنی منشاء کے ماتحت لاتے ہو اور اس کی ایسی تشریح کرتے جس سے ان کی حقیقت بالکل مٹ جاتی ہے اور صرف مجاز باقی رہ جاتا ہے تو یہ کفر ہے۔اس تم کی سب باتوں سے بچنا چاہئے۔٣- كلام الہٰی کے متعلق شبہات پھر خدا تعالی ٰکی طرف سے جو کچھ نازل ہو اس کے متعلق شبہات کرنا بھی گناہ ہے مگر عام لوگ وساوس اورشبہات اپنے دل میں رکھتے ہیں۔یہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ناانصافی ہے اگر کوئی شبہ ہو تو اس کو حل کرنا اور اپنے دل سے دور کر دینا چاہئے۔کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ شبہات کا حل تلاش کرنے سے تمارے عقائد پر زد پڑے گی اگر یہ بات ہے تو ایسے مذہب کو چھوڑ دو ورنہ تحقیقات کر کے دور کرو۔۴۔مایوسی اسی طرح مایوسی بھی گناہ ہے اور خدا تعالی ٰپر بہت بڑا اتہام ہے۔بہت لوگ ہوتے ہیں جو مصائب کے وقت خیال کر لیتے ہیں کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا مگر مومن کو کبھی مایوس نہیں ہونا چاہئے۔اگر تلوار بھی کسی کی گردن پر رکھی ہو اور دشمن اس سے پوچھے کہ اب بھی تو اس سے رہا ہو سکتا ہے یا نہیں؟ تو مومن یہی کہے کہ اب بھی رہا ہو سکتا ہوں۔بعض اوقات بظاہر انتہائی ناکامی سمجھی جاتی ہے مگر اس حالت میں بھی کامیابی ہو جاتی ہے اور بعضاوقات انسان خیال کرتا ہے کہ میری کامیابی میں کوئی شبہ ہی نہیں مگر وہ ناکام ہو جاتا ہے۔بچپن میں ہم مدرسہ کی کتابوں میں ایک واقعہ پڑھا کرتے تھے۔ایک آدمی تھا جو بہت امیر ہو گیا اس کے بڑے اچھے کھیت تھے جن میں بہت پیداوار ہوتی تھی۔ایک دن وہ بڑا خوش ہو رہا تھا کہ اس نے چائے منگوائی ابھی اس نے پی نہ تھی کہ اس کو کسی نے آکر کہاسؤر کھیت خراب کر رہا ہے اس نے چائےنہ پی اور ہتھیار لے کر سؤر کو مارنے کیلئے چلا گیا۔مگر سؤر نے اس پر ایساحملہ کیا کہ اسے مارہی دیا اور وہ چائے نہ پی سکا۔یہ واقعہ تو امید میں نا امیدی کی مثال ہے۔مگر خدا تعالی ٰبظا ہرنا امیدی کی حالت میں جس طرح اپنے بندوں کی حفاظت کرتا ہے اس کی بھی حیرت انگیز مثالیں ہیں۔ایک دفعہ رسول کریمﷺ لشکرسے علیحدہ ہو کر ایک درخت کے نیچے لیٹے ہوئے تھے کہ ایک کافر آیا اور آپ ؐکی تلوار