انوارالعلوم (جلد 7) — Page 498
۴۹۸ اسی طرح یہ بھی اعلان کیا کہ بستیوں میں سے قادیان نسبتاً محفوظ رہے گا اور یہاں اس قسم کی سخت طاعون نہیں پڑے گی جیسے کہ دوسری جگہوں پر پڑے گی اور گھروں میں سے آپ کا گھر کلی طور پر محفوظ رہے گا` اس میں طاعون کا کوئی حادثہ نہیں ہوگا- ان اعلانوں کے بعد طاعون ہندوستان میں اس شدت کے ساتھ پھیلی کہ الامان! ہر سال کئی کئی لاکھ آدمی طاعون سے مر جاتا تھا مگر باوجود اس کے کہ آ پ ؑنے اپنی جماعت کو طاعون کا ٹیکہ کرانے سے منع کر دیا تھا جو طاعون کا ایک ہی علاج سمجھا جاتا تھا- دوسرے لوگ طاعون سے مرتے تھے مگر آپ کی جماعت کے لوگ نسبتاً طاعون سے محفوظ رہتے تھے اور متواتر اور کئی سال تک اسی طرح ہوتا ہوا دیکھ کر لوگوں نے سوچا کہ آخر کوئی بات ہے کہ اس طاعون کے کیڑے احمدیوں کو چھوڑ کر دوسرے لوگوں کو پکڑتے ہیں اور ہزار ہا لوگ اس کو دیکھ کر ایمان لائے- بلکہ مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام کے زمانے کے اکثر احمدی وہی ہیں جو اس نشان کو دیکھ کر ایمان لائے تھے- یہ بات ان کے لیے حیرت انگیز تھی کہ طاعون کے کیڑوں کو کون بتاتا ہے کہ فلاں شخص مرزا صاحب کا ماننے والا ہے اور فلاں منکر- بڑے بڑے دشمن جیسا کہ پہلی بیان کردہ بعض مثالوں سے ظاہر ہے طاعون سے ہی ہلاک ہوئے لیکن آپ کی جماعت بہت حد تک محفوظ رہی- صرف کبھی کبھی اور کسی جگہ کوئی واقعہ ایسا ہو جاتا تھا کہ ان میں سے بھی کوئی اس مرض میں مبتلا ہو جائے- متواتر کئی سال تک سارے ملک میں طاعون کی وباء کا پھوٹنا اور ماننے والوں کا نسبتاً محفوظ رہنا صاف ظاہر کرتا ہے کہ آپ کی مزکورہ بالا رویا اور آپ کے الہام آگ ہماری غلام بلکہ غلامون کی بھی غلام ہے کے ماتحت ملائکہ اس مرض کے جرمز کو آپ کی تائید لیکن آپ کے دشمنوں کی ہلاکت میں لگا رہے تھے اور اس طرح فرمانبرداری کا وہ حق پورا کر رہے تھے وہ ہر مرسل کے متعلق ان کے ذمہ لگایا گیا ہے- قادیان میں بھی ایسا ہی ہوا کہ دوسرے شہروں کی نسبت یہاں بہت ہی کم طاعون ہوئی اور تین سال تک ہو کر ہٹ گئی- حالانکہ دوسرے شہروں میں دس دس سال بلکہ بعض جگہ اس سے بھی زیادہ رہی- آپ کے گھر کے متعلق تو ملائکہ کی فرمانبرداری کا عجیب نمونہ نظر آیا- یعنی باوجود اس کے کہ تین سال تک متواتر آپ کے گھر کے بائیں طرف بھی اور دائیں طرف بھی طاعون پھوٹی