انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 492

۴۹۲ مبتلا ہو کر مر گیا اور مرتے وقت یہ کہتا تھا کہ اب تو خدا نے مجھے چھوڑ دیا- اس شخص کی موت نے بھی ُپر شوکت الفاظ میں اس امر پر گواہی دی کہ ماموروں کی مخالفت معمولی چیز نہیں- جو جلد یا بدیر عذاب الٰہٰی میں مبتلا کرتی ہے- چراغ دین جمونی کے سوا اور بیسیوں شخص ایسے ہیں جنہوں نے آپ کے خلاف دعا ہائے مباہلہ کیں اور بہت جلد اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آگئے- جیسے کہ مولوی غلام دستگیر قصوری- یہ شخص حنفیوں میں سے ایک بہت بڑا عالم اور صاحب رسوخ آدمی تھا- اس نے بھی آپ کے خلاف دعا کی تھی اور اللہ تعالیٰٰ سے جھوٹے اور سچے کے درمیان فیصلہ چاہا- یہ شخص بھی بہت جلد یعنی چند ماہ کے اندر اندر طاعون کی مرض میں گرفتار ہو کر ہلاک ہو گیا اور لوگوں کے لیے عبرت ک موجب بنا- ایک شخص فقیر مرزا نامی ساکن دولمیال ضلع جہلم کا تھا- اس نے لوگوں میں یہ کہنا شروع کیا کہ حضرت اقدسؑ مسیح موعود علیہوالصلوہ والسلام کی نسبت مجھے بتایا گیا ہے کہ اس رمضان کی ستائیس تاریخ تک وہ ہلاک ہو جائیں گے اور جماعت احمدیہ کے مقامی ممبروں کو ایک تحریر لکھ کر دے دی جس میں اس کشف کا ذکر کیا اور لکھا کہ اگر ۲۷ رمضان المبارک ۱۳۲۱ء ھ تک مرزا صاحب ہلاک نہ ہوئے یا ان کا سلسلہ تباہ نہ ہوا تو میں ہر قسم کی سزا برداشت کرنے کے لیے تیار ہوں اور اس کاغذ پر بہت سے لوگوں کے دستخط کروا کر جماعت احمدیہ کے ممبروں کو دیدیا- یہ کاغذ جیسا کہ اس پر لکھا ہوا ہے سات رمضان المبارک ۱۳۲۱ء کو لکھا گیا- اس کے بعد ۲۷ رمضان تو گزر ہی گئی اور ایسا ہی ہونا چاہئیے تھا- صادقوں پر جھوٹوں کی باتوں کا کیا اثر ہو سکتا تھا مگر اگلا رمضان آیا تو اس گاؤں میں طاعون نمودار ہوئی اور پہلے اس شخص کی بیوی مری- پھر یہ خود بیمار ہوا اور پورے ایک سال کے بعد اسی تاریخ جس تاریخ کو اس نے وہ تحریر لکھ کر دی تھی یعنی سات رمضان المبارک کو یہ شخص سخت تکلیف اور دکھ اٹھا کر مر گیا اور چند دن بعد اس کی لڑکی بھی گزر گئی- یہ مثالیں اگر جمع کی جائیں تو سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد تک پہنچ جائیں کیونکہ سینکڑوں ہزاروں آدمیوں نے دلائل سے تنگ آکر اور ضد میں گرفتار ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام کے خلاف دعائیں کیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آگئے` لیکن سب سے عجیب بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ہلاکت اور ذلت کے نشان کو کئی رنگ میں دکھایا ہے جن