انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 489

۴۸۹ کرے تو اس کا تعلق اور اس کی محبت بے ثبوت رہے اور ماموروں کے دعوے مشتبہ ہو جائیں- کیونکہ دنیا کے بادشاہ اور حاکم جن کی طاقتیں محدود ہوتی ہیں وہ بھی اپنے دوستوں اور اپنے کارکنوں کے راستے میں روک بننے والوں کو سزا دیتے ہیں اور ان سے عداوت رکھنے والوں سے مواخذہ کرتے ہیں- قرآن کریم سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ ہماری عقل کا مطالبہ بالکل درست ہے اور اللہ تعالیٰ تصدیق فرماتا ہے کہ اس طرف سے آنیوالوں کے دشمنوں اور معاندوں کی ضرور گرفت ہونی چاہئیے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا اوکذب بایتہ انہ لا یفلح الظلمون )انعام ع۳(22: یعنی اس سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے- یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنیوالے کی باتوں کو جھٹلا دے- بات یہ ہے کہ ظالم کبھی کامیاب نہیں ہوتے- اس آیت میں بتایا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ پر افتراء کرنیوالا کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیوالے کی باتوں کو جھٹلانے والا بھی کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا- اسی طرح فرماتا ہے ولقد استھزی برسل من قبلک فحاق بالذین سخروا امنھم ما کانوا بہ یستھزء ون قل سیرو فی الارض تم انظروا کیف کان عقبہ االمکذبین )انعام ع۲(11,12: اور تجھ سے پہلے جو رسول گزرے ہیں ان کے ساتھ بھی ہنسی اور ٹھٹھا کیا گیا مگر آخر یہ ہوا کہ وہ لوگ جو ان میں خاص طور پر ٹھٹھا کرنے والے تھے ان کو ان چیزوں نے گھیر لیا جن سے وہ ہنسی کرتے تھے تو کہدے کہ جاؤ زمین میں خوب پھرو اور دیکھو کہ خدا کے نبیوں کو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا ہے اس مضمون کی آیات اس کثرت سے قرآن کریم میں پائی جاتی ہیں کہ زیادہ زور اس پر دینے کی ضرورت نہیں- خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰٰ کی سنت ہے کہ اس کے ماموروں اور مرسلوں کا مقابلہ کرنیوالے ہلاک کئے جاتے ہیں اور دوسروں کے لیے موجب عبرت ہوتے ہیں- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اسی مضمون کا الہام ہوا تھا کہ انی مھین من ارادا اھانتک میں اس کو ذلیل کروں گا جو تیری اہانت کا ارادہ بھی کرے گا اور اس سنت مستمرہ اور اس وعدہ خکاص کے مطابق حضرت اقدسؑ علیہ الصلوۃ والسلام کے دشمنوں کے ساتھ وہ سلوک ہوا ہے کہ دیکھنے والے دنگ اور سننے والے حیران ہیں-