انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 28

۲۸ اور اگر پتہ لگ جائے تو کہہ دیتے ہیں ہم نے تو ہنسی کی تھی مگر ایسی ہنسی جائز نہیں جو جھوٹ ہو اور جس کی وجہ سے دوسرے کو نقصان پہنچ جائے۔پس ہر قسم کے دهو كاسے بچنا چاہئے خصوصاً ہنسی کے نام سے جو دھوکا کیا جاتا ہے اس سے۔کیونکہ عام طور پر لوگ اسے جائز سمجھتے ہیں حالانکہ یہ بھی جائز نہیں۔(۵) قتل پانچواں گناہ قتل ہے۔یہ بھی خطرناک جرائم میں سے ہے اس سے دوسرے کو ایسا نقصان پہنچایا جاتا ہے جس کا کوئی تدارک نہیں ہو سکتا کیونکہ قاتل مقتول کے نیک اعمال کو ضائع کر دیتا ہے۔ہماری جماعت میں جان سے قتل کر دینے کا عیب تو خدا کے فضل سے نہیں ہے مگر ان کے یہی معنی نہیں کہ کسی کو جان سے مار دیا جائے بلکہ اور بھی ہیں۔مثلا اگر کوئی کسی سے ایسے رنگ میں ناراض ہوا یا نقصان پہنچاتا ہے کہ وہ برباد ہو جاتا ہے تو یہ بھی قتل ہے اگر تم کسی کو اس طرح مارتے ہو کہ مارڈالنے کی نیت نہیں مگر وہ مرجاتا ہے تو یہ بھی قتلی ہے۔اس کی بھی سزا رکھی گئی ہے اس لئے کہا ہے کہ تم کسی کے مارنے کے لئے ہاتھ ہی نہ اٹھاؤ سوائے خود حفاظتی کے موقع کے۔(۶) چوری ایک چوری کا عیب ہے۔گجرات اور گوجرانوالہ کے اضلاع میں لوگ جانوروں کی چوری کو چوری نہیں تھے۔کہتے ہیں دوسرے ہمارے جناورلے جاتے ہیں اور ہم ان کے لئے آتے ہیں مگر یہ بھی چوری ہے۔جیسے سیندھ لگاکر زیوریا روپیہ نکال لینا چوری ہے اسی طرح جانور نکال کر لے جانا بھی چوری ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم اس طرح نہ کریں تو تباہ ہو جائیں گے دوسرے ہمارے جانور لے جائیں گے اور ہم خالی ہاتھ بیٹھے رہیں گے مگر مکہ والے بھی رسول کریمﷺ کویہی کہتے تھے۔خداتعالی ٰان کو زجر کرتا ہے کہ جب خدا کے لئے ایسا کرو گے تو کیوں لُٹ جاؤ گے۔پس تم میں سے بھی کوئی حضرت موعودؑ کے پاک اور صاف جبہ پر داغ نہ لگائے۔دیکھو ہر ایک عیب عیب ہی ہے مگر بعض کمینہ عیب ہوتے ہیں۔ایک عیب شہوت کی وجہ سے کیا جاتا ہے وہ بھی عیب ہی ہے مگر اس کے کرنے والےکا عذر بھی تو ہے۔مگر کمینہ عیب اس سے بھی برا ہوا ہے اور اس قسم کی چوری کا عیب کمینہ اور خسیس عیب ہے اس کی محرّک کوئی ضرورت طبعی نہیں۔تم اس کے لئے احمدیت کو بد نام نہ کرو۔اگر تم اس سے بچو گے تو خدا تعالی ٰتمہارا مدد گار ہو گا۔ہمارے گھوڑے چوری ہو گئے اور جن کو پکڑا گیا وہ قسمیں کھا کر چھوٹ گئے اور ہم نے ان کی بات مان لی۔مگر بعد میں معلوم ہوا کہ