انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 448

۴۴۸ مختلف مواقع پر آپؑ نے لوگوں کو اُکسایا مگر صدائے بر نخاست۔ایک دفعہ پنجاب کے لارڈ بشپ کو آپ نے چیلنج دیا کہ میرے مقابل پر آکر دعا کی قبولیت کا نشان دیکھو ، تمہاری کتب میں بھی لکھا ہے کہ اگر ایک رائی کے دانے کے برابر تم میں ایمان ہو تو تم پہاڑوں سے کہوکہ چلو تو وہ چلنے لگیں گے اور ہماری کتب بھی مومنوں کی نصرت اور تائید اور ان کی دعاؤں کی قبولیت کا وعدہ دیتی ہیں۔پس چاہئے کہ تم میرے مقابلہ پر آکر کسی امر کی متعلق دعا کر کے دیکھو تا معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے والوں کی دعائیں مقابلے کے وقت سنتا ہے یا ان کی دعائیں سنتا ہے جو مسیحی تعلیم پر عمل کرنے والے ہوں مگر باوجود باربار چیلنج دینے کے لارڈ بشپ صاحب خاموش رہے اور ان کی خاموشی ایسی عجیب معلوم ہوتی تھی کہ بعض انگریزی اخبارات نے بھی ان پر چوٹ کی کہ اس قدر بڑی بڑی تنخواہیں لینے والے پادری جب کوئی مقابلے کا وقت آتا ہے تو سامنے ہو کر مقابلہ کیوں نہیں کرتے مگر نہ غیروں کے چیلنج نے پادری صاحب کو مقابلے پر آمادہ کیا اور نہ اپنوںکے طعنوں نے۔وہ آنوں بہانوں سے اس پیالے کو ٹالتے رہے۔اس قسم کے چیلنج آپ نے متواتر دشمنان اسلام کو دیئے ، مگر کوئی شخص مقابلے پر نہ آیا۔آپؑ کا یہ حربہ ایسا ہے کہ ہر ذی عقل اور صاحب شعور آدمی پر اس کا اثر ہوگا اور جوں جوں لوگ اپنے مذاہب کے لئے بے اثر ہونے اور اسلام کے زندہ اور مؤ ثر ہونے کو دیکھیں گے اسلام کی صداقت ان پر کھلتی جائے گی۔کیونکہ مباحثات میں انسان باتیں بنا کر حق کو چھپا سکتا ہے مگر مشاہدے اور تاثیر کے مقابلے میں اس سے کوئی عذت نہیں بن سکتا اور آخر دل سچائی کا شکا ہو ہی جاتا ہے یہ حربہ بھی انشاء اللہ اظہار دین کے لئے نہایت زبردست اور سب سے زبردست حربہ ثابت ہوگا، بلکہ ہر اعقلمند انسان کے نزدیک اس حربے کے ذریعے سے عقلاً اسلام غالب ہو چکا ہے گو مادی نتیجہ کچھ دن بعد پیدا ہو۔یہ پانچ حربے جو حضرت اقدسؑ نے دشمنان اسلام پر چلائے ہیں میں بے بطور مثال پیش کئے ہیں جن سے معلوم ہو سکتا ہے کہ جو کام مسیح موعود ؑ کے لئے تھا وہ آپ کر چکے ہیں اور اگر آپؑ مسیح موعود ؑ نہیں ہیں تو پھر سوال ہوتا ہے کہ اب کونسا کا م رہتا ہے جو مسیح موعود آکر کرے گا؟ کیا یہ تلوار سے لوگوں کو دین میں داخل کرے گا؟ تلوار سے داخل کئے ہوئے لوگ اسلام کو کیا فائدہ دیں گے ؟ اور خود ان کو اس جبر ی ایمان سے کیا فائد ہ ہوگا؟ اگر آج مسیحی اپنی طاقت