انوارالعلوم (جلد 7) — Page 439
۴۳۹ یہ وہ حملہ ہے کہ جوں جوں مذاہب غیر کے پیروؤں پر اس حملے کا اثر ہو گا وہ اسلام کے قبول کرنے پر مجبور ہونگے اور آخر اسلام ہی اسلام دنیا میں نظر آنے لگے گا- مسیح موعود نے سنت انبیاء کے ماتحت بیج بو دیا ہے- درخت اپنے وقت پر نکل کر پھل دے گا اور دنیا اس کے پھلوں کی شیرینی کی گرویدہ اور اس کے سائے کی ٹھنڈک کی قائل ہو کر مجبور ہو گی کہ اسی کے نیچے آکر بیٹھے- ایک دن اس حملے کی زد سے کسی قدر بچ رہتا تھا، یعنی سکھوں کا دین کیونکہ باوانانک صاحب رسول کریم ﷺکے بعد ہوئے ہیں گو ان کے یہاں بھی ایک آخری مصلح کی پیشگوئی موجود ہے بلکہ صاف لکھا ہے کہ وہ بٹالہ کے علاقے میں ہو گا )بٹالہ وہ تحصیل ہے جس میں قادیان کا قصبہ واقع ہے گویا یہ پیشگوئی لفظاً لفظاً پوری ہو چکی( لیکن ان کی طرف سے یہ اعتراض ہو سکتا تھا کہ رسول کریم ﷺ خاتم النبین تھے تو آپ کے بعد اس مذہب کی بنیاد کیونکر پڑی- سو اس مذہب کی اصلاح اور اس کو اسلام میں لانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حربہ دیا کہ آپ کو رویا میں بتایا گیا کہ باوانانک رحمہ اللہ علیہ نے کوئی نیا دین نہیں نکالا بلکہ وہ پکے مسلمان تھے- اے بادشاہ! آپ یہ سن کر تعجب کریں گے کہ یہ بظاہر عجیب نظر آنیوالی بات ایسے زبردست دلائل کے پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ ہزاروں سکھوں کے دلوں نے اس امر کی صداقت کو قبول کر لیا اور وہ سکھ جو اس سے پہلے اپنے آپ کو ہندوؤں کا جزو قرار دیا کرتے تھے بڑے زور سے جدوجہد کرنے لگے کہ وہ ہندوئوں سے علیحدہ ہو جائیں- حضرت مسیح موعود کے اس دعوے سے پہلے سکھ گوردواروں میں ہندوؤں کے بت رکھے ہوئے تھے اس دعوے کے بعد گوسکھ قوم نے بحیثیت قوم تو ابھی اسلام کو قبول نہیں کیا مگر ایسا تغیر عظیم اس میں واقع ہوا کہ اس نے گوردواروں میں سے بت چن چن کر باہر پھینکنے شروع کر دئیے اور ہندو ہونے سے صاف انکار کر دیا- حضرت اقدسؑ نے اس رویا کے بعد جب تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ گرنتھ صاحب میں جو باوا صاحب علیہ الرحمہ کے مواعظ کی کتاب ہے نماز پنجگانہ اور روزہ اور زکوہ اور حج کی سخت تاکید ہے اور کے بجانہ لانے پر سخت تہدید کی گئی ہے، بلکہ سکھوں کی کتب سے یہ بھی معلوم ہوا کہ باوا صاحب علیہ الرحمہ مسلمان اولیاء کے ساتھ جاکر رہا کرتے تھے ان کے مقابر پر اعتکاف کرتے تھے ان کے ساتھ نماز پڑھتے تھے- آپ حج کو تشریف لے گئے تھے اور بغداد