انوارالعلوم (جلد 7) — Page 420
۴۲۰ دعوۃالامیر بتائی جو درحقیقت کوئی علامت ہی نہیں تھی اور جس سے کسی مدعی کے دعویٰ کی صداقت ثابت کرنا خلاف عقل ہے۔بعض لوگ یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ پیشگوئی میں چاند کو پہلی تاریخ اور سورج کو درمیانی تاریخ میں گرہن لگنے کی خبر دی گئی ہے ، لیکن جس گرہن کا تم ذکر کرتے ہو وہ تیرھویں اور اٹھا ئیسویں تاریخ کو ہوا ہے، لیکن یہ اعتراض ایک ذرا سے تدبّر سے نہایت غلط اور الفاظ حدیث کے خلاف معلوم ہوتا ہے، یہ لوگ اس امر کو نہیں دیکھتے کہ چاند اور سورج کو خاص تاریخوں میں گرہن لگا کرتا ہے اور اس قاعدے میں فرق نہیں پڑ سکتا۔جب تک کائنات عالم کوتہ و بالا نہ کر دیا جائے۔پس اگر وہ معنے درست ہیں جو یہ لوگ کرتے ہیں تو یہ نشان قیامت کی علامت تو ہوسکتا ہے ، مگر قُرب قیامت اور زمانہ مہدی کی علامت نہیں ہو سکتا۔علاوہ ازیں یہ لوگ پہلی اور درمیانی کے الفاظ کو تو دیکھتے ہیں، لیکن قمر کے لفظ کو نہیں دیکھتے پہلی تاریخ کا چاند عربی زبان میں ہلال کہلاتا ہے، قمر تو چوتھی تاریخ سے اس کا نام ہوتا ہے لغت میں لکھا ہے۔وَھُوَقَمَرٌ بَعْدَ ثَلاَثَ لَیَالٍ اِلٰی اٰخِرِالشَّھْرِ وَاَمَّا قَبْلَ ذَالِکَ فَھُوَ ھِلاَلٌ یعنی چاند تین راتوں کے بعد قمر بنتا ہے اور مہینے کے آخر تک قمر رہتا ہے مگر پہلی تین راتوں میں وہ ہلال ہوتا ہے۔پس باوجود حدیث میں قمر کا لفظ استعمال ہونے کے اور باوجود اس قانون قدرت کےکہ چاند کو تیرہ۱۳، چودہ۱۴،پندرہ۱۵ کو گرہن لگتا ہے نہ کہ پہلی تاریخ کو۔پہلی تاریخ سے مہینے کی پہلی تاریخ مراداور چاند گرہن کی تاریخوں میں سے پہلی تاریخ مراد نہ لینا بالکل خلاف عقل و خلاف انصاف ہے اور اس کی غرض سوائے اس کے کچھ نہیں معلوم ہوتی کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کا کلام جھوٹا ہو اور آسمان سے آنے والے پرلوگ ایمان نہ لے آئیں۔یہ وہ علامات ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کے متعلق بیان فرمائی ہیں اور گو ان میں سے بعض ایک ایک بھی مسیح موعود کے زمانے کی ہے اور اس کے لئے نشان ہے، لیکن در حقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان علامات کے بیان کرنے سے مسیح موعود کے زمانے کے حالات کو مجموعی طور پر لوگوں کے سامنے اس صورت میں لانا تھا کہ کسی کوشک و شبہ کی گنجائش نہ رہے اس میں کوئی شک نہیں کہطاعون پہلے زمانوں میں بھی پڑتی رہی ہے، اس