انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 412

۴۱۲ دعوۃالامیر بیٹھے بیٹھے یا لیٹے لیٹے مرجاتے ہیں جس کی مثال پہلے زمانوں میں نہیں پائی جاتی۔صحت عامہ:۔کے متعلق ایک یہ بات بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہے کہ اس وقت ایک بیماری ہوگی جو ناک سے تعلق رکھے گی جس سے کثرت سے لوگ مر جائیں گےیہ بیماری بھی پید اہو چکی ہے جسے طبی اصطلاح میں انفلوئنزا کہتے ہیں اس بیماری سے ۱۹۱۸؁ء میں دوکروڑ آدمی دنیا بھر میں مرگئے۔حالانکہ پنج سالہ جنگ عالمگیر میں صرف ساٹھ لاکھ کے قریب آدمی مرا تھا ، گویا کُل دنیا کی آبادی کا ڈیڑھ فیصد ی حصہ اس بیماری سے فنا ہو گیا اور دنیا کو یہ بیماری قیامت کا یقین دلاگئی۔کیونکہ لوگوں نے دیکھ لیا کہ اگر اللہ تعالیٰٰ چاہے تو اس کیلئے دنیا کا خاتمہ کردینا کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔نسلی تناسب:۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زمانہ کے نسلی تناسب کا بھی نقشہ کھینچا ہے۔چنانچہ آپؐ فرماتے ہیں کہ اس زمانے میں عورتیں مردوں سے زیادہ ہوجائیں گی حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ایک مرد نگران ہوگا۔یہ پیشگوئی بھی پوری ہو چکی ہے۔اس وقت دنیا میں عورتیں زیادہ ہیں اور یورپ کے بعض ممالک میں بوجہ جنگ میں مردوں کے مارے جانے کے عورتوں کی وہ کثرت ہو گئی ہے کہ وہ قومیں جو اسلام پر کثرت ازدواج کے مسئلے کی وجہ سے ہنسا کرتی تھیں اب خود نہایت سنجیدگی سے اس مسئلے پر غور کر رہی ہیں کہ موجودہ ابتری کا علاج سوائے کثرت ازدواج کے اور کیا ہو سکتا ہے اور بڑے بڑے فلاسفر اس امر پر مضمون لکھ رہے ہیں کہ اس وقت حکومتوں کو تباہی سے بچانے اور نظام تمدن کو قائم رکھنے کے لئے یا تو ایک سے زیادہ بیویوں کی اجازت ہونی چاہئے یا زنا کو ظاہر طور پر جس قدر بُرا سمجھا جاتا تھا اس پردہ کو بھی اٹھا دینا چاہئے اور اس بات کی طرف تو اکثر لوگ مائل ہیں کہ ایسے لوگوں کو جو ایک سے زیادہ بیویاں کرتے ہیں ، عدالتوں میں نہیں گھسیٹنا چاہئے اور ان کے اس فعل پر چشم پوشی کرنی چاہئے اور یہ خیالات کا تغیر عورتوں کی زیادتی کا نتیجہ ہے ورنہ کچھ ہی مدت پہلے یورپ کے لوگوں کی نظر میں کثرت ازدواج نہایت سخت جرموں میں سے گِنا جاتا تھا اور اس کی تائید اشارتاً بھی کوئی مسیحی نہیں کر سکتا تھا، بلکہ ان کی نفر ت کو دیکھ کر مسلمان بھی اسلام کی طرف سے کثرت ازدواج کی اجازت دینے پر معذرت کرنے لگ گئے تھے۔تعلقاتِ مابین:۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کے زمانے کے متعلق یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ اس وقت اقوام کے تعلقات کس طرح کےہو ں گے۔آپ نے خبر دی ہے کہ اس