انوارالعلوم (جلد 7) — Page 408
۴۰۸ دعوۃالامیر ایک تغیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس وقت مومن ذلیل ہوں گے اور لوگوں کے ڈر سے چھپتے پھریں گے۔حضرت ابن عباسؓ سے ابن مردویہؒ نے روایت کی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اشراطِ ساعت میں سے ایک علامت یہ بیان فرمائی ہے کہ مومن لونڈی سے بھی زیادہ ذلیل سمجھا جائے گا۔جس کا یہ مطلب ہے کہ لونڈی سےبھی لوگ رشتہ محبت قائم کر لیتے ہیں اور اس سے شادی کر لیتے ہیں، لیکن مومن سے تعلق پیدا کرنا ان دنوں کوئی پسند نہیں کرے گا۔اسی طرح حضرت علیؓ سےدیلمی نے روایت کی ہے کہ ان دنوں نیک چھپ چھپ کر پھریں گے۔یہ حالت بھی ایک عرصے سے پیدا ہے۔مومنوں سے تعلق کو ناجائز سمجھا جاتا ہے۔جو بھی سچا متبع قرآن مجید اور سنتِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو اس سے بد تر انسان مسلمانوں میں کوئی نہیں سمجھا جاتا۔حتیٰ کہ مسیح موعود کی آمد کے بعد تو یہ علامت ایسی ظاہر ہو گئی ہے کہ فاحشہ عورتوں اور بے نمازوں اور خائنوں اور جھوٹ بولنے والوں اور اللہ اور رسولؐ کو برا کہنے والوںسے ملنا اور انکے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا تو جائز سمجھا جاتا ہےلیکن جب لوگوں نے آسمانی آواز پر لبیک کہا ہے ان کو دھتکار ا جاتا ہے۔اور ان سے دشمنی رکھی جاتی ہے۔ایک علامت اس زمانے کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اس وقت مسلمانوں میں عربی کاچرچا کم ہو جائے گا۔چنانچہ ابن عباسؓ سے مردویہ ؓ نے یہ روایت کی ہے کہ آپ نے اشراط ساعت میں سے ایک علامت یہ بیان فرمائی ہے کہ اس وقت صفوف توبڑی لمبی ہوں گی، لیکن زبانیں مختلف ہوں گی۔اور یہ نقشہ حج کے ایام میں خوب نظر آتا ہے، حج کی بڑی اغراض میں سے ایک غرض یہ بھی تھی کہ اس کے ذریعے سے اجتماع اسلامی قائم رہے، لیکن عربی زبان کو ترک کر دینے کے سبب وہاں لوگ جمع ہوکر بھی فریضہ حج ادا کرنے کے سوا کوئی اجتماعی یا ملی فائد ہ حاصل نہیں کر سکتے ، اگر مسلمان عربی زبان کو زندہ رکھتے تو یہ زبان دنیا کے چاروں گوشوں کے لوگوں کو ایک ایسی مضبوط رسّی میں باندھ دیتی جو کسی دشمن کے حملے سے نہ ٹوٹتی۔ایک حالت اس وقت کے تمدن کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اس وقت عورتیں باوجود لباس کے ننگی ہوں گی یہ حالت بھی اس وقت دو طرح پیدا ہو رہی ہے۔ایک تو اعلیٰ کپڑا اس قدر سستا ہو گیا ہے کہ عام طور پر لوگ وہ کپڑاپہن سکتے ہیں جو پہلے امراء تک