انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 17

۱۷ علاج بھی معلوم ہو جاۓ تو اس کے علاج کی طرف توجہ بھی کرنی چاہئے۔دوسروں کا بھی علاج کرو لیکن یہیں ہمارا فرض ختم نہیں ہو جاتا کیونکہ بعض بیماریاں ایسی ہوتی ہیں کہ ان میں اپنا ہی علاج کر کے ہم آئندہ کے لئے محفوظ نہیں ہو جاتے۔بعض بیماریاں متعدی ہوتی ہیں جیسے انفلو ئنزا آسٹریلیا میں یہ ایک خط کے ذریعہ پھیل گیا اور بعض انفرادی ہوتی ہیں اور جس طرح جسمانی و بائیں متعدی ہوتی ہیں اسی طرح روحانی وبائیں بھی متعدی ہوتی ہیں اس لئے جب تم کسی ایسے شخص کے پاس جاؤ گے جو ایسی روحانی بیماری میں مبتلاء ہو گا تو ڈر ہے کہ تم کو بھی وہ نہ لگ جائے۔پس صرف اپنا علاج ہی کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ دوسروں کے بھی علاج کرو۔اگر ملک میں طاعون یا انفلوئنزا پھیلا ہو تو اس سے تمہیں مطمئن نہیں ہونا چاہئے کہ تم ابھی تک اس سے بچے ہوۓ کیو نکہ ڈر ہے کہ اگر آج طاعون نہیں ہوئی تو کل ہو جائے اور اگر آج صبح انفلوئنزا نہیں ہو اتو شام تک ہو جائے۔پس جب تک متعدی بیماریاں ملک میں ہوں اس وقت تک ڈر ہے کہ تم کو بھی نہ لگ جائیں کیونکہ تمہیں دوسروں سے ملنا ہوتا ہے اور اس طرح تم بھی ان کی زد کے نیچے رہتے ہو۔پس صحت حاصل کرنے کے بعد انسان کی دوسری ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کا بھی علاج کرے۔حفظ ما تقدم تیسری ذمہ داری یہ ہے کہ صرف دنیا سے بیماری کو دو رہی نہ کیا جائے بلکہ اس کی بھی تدبیر کی جائے کہ بیماری ملک میں آئندہ پیداہی نہ ہو۔متمدن اقوام اسی کو کافی نہیں سمجھتیں بلکہ وہ کچھ اور بھی کرتی ہیں اور وہ یہ کہ حفظ ماتقدم کا انتظام کرتی ہیں تا کہ پھر بیماری ہی نہ ہو۔پس تیسری ذمہ داری ہماری یہ ہے کہ ہم ایسا انتظام کر جائیں کہ آئنده روحانی امراض نہ پھیلیں۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے ؟ اس طرح کہ ہم اپنی اولاد کو ان بیما ریوں سے محفوظ کر جائیں۔وہ آگے اپنی اولاد کو اور وہ اپنی اولاد کو اسی طرح یہ سلسلہ چلتا جائے۔غرض ہمیں چاہئے کہ پہلے ہم اپنی بیماریوں کو دور کریں پھر اپنے ہمسایوں کی بیماریوں کو دور کریں پھر سارے ملک کی بیماریوں کو اور پھر ساری دنیا کی بیماریوں کو اور اسی پر بس نہ کریں حفظ ماتقدم کا بھی انتظام کر جائیں اور یہ ہم اسی طرح کر سکتے ہیں کہ اپنی اولاد کو محفوظ کر جائیں اور وہ اس طرح کہ ان کی تعلیم و تربیت کا پورا پورا انتظام کریں تاکہ ان میں امراض نہ پیدا ہوں اور اس طرح شیطان کو ہمیشہ کے لئے مار دیں۔یہی حضرت مسیح موعودؑ کا مشن تھا کہ وہ شیطان کو مار دے گا اور جب تک ہم یہ نہ کریں ہمارے چندے، ہماری نمازیں، ہمارے روزے، ہمارے حج ،ہماری زکوٰتیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتیں