انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 331

۳۳۱ دعوة الا میر دوسرے پر الزام لگاتا ہے کہ جو کچھ یہ منہ سے کہتا ہے وہ اس کے دل میں نہیں ہے` وہ خدائی کا دعوی کرتا ہے کیونکہ دلوں کا جاننے والا صرف اللہ اس کے سوا کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کسی کے دل میں کیا ہے- رسول کریم ﷺسے زیادہ عارف کون ہوگا - آپ اپنی نسبت فرماتے ہیں۔انكم تختصمون الى وانما انا بشرولعل بعضكم ان یكون الحن بحجته من بعض فان قضیت لاحد منکم بشی من حق اخیه فانما اقطع لہ قطعة من النار فلا یاخذ منہ شیئا یعنی تم میں سے بعض لوگ میرے پاس جھگڑا لاتے ہیں اور میں بھی آدمی ہوں - ممکن ہے کہ کوئی آدمی تم میں سے دوسرے کے نسبت عمدہ طور پر جھگڑا کرنے والا ہو` پس اگر میں تم میں سے کسی کو اس کے بھائی کا حق دلا دوں تو میں اسے ایک آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دیتا ہوں اسے چاہیے کہ اسے نہ لے - اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ اسامہ بن زید ؓ کو رسول کریم ﷺنے ایک فوج کا افسر بنا کر بھیجا - ایک شخص کفار میں سے ان کو ملا جس پر انہوں نے حملہ کیا` جب وہ اس کو قتل کرنے لگے تو اس نے محکمہ شہادت پڑھ دیا - مگر باوجود اس کے انہوں نے اسے قتل کر دیا - جب رسول کریم ﷺکو یہ خبر پہنچی تو آپ ﷺنے ان سے دریافت کیا کہ انہوں نے کیوں ایسا کیا ہے اس پر اسامہ ؓ نے کہا یا رسول اللہ وہ ڈر سے اسلام ظاہر کرتا تھا آپ ﷺنے فرمایا الا شققت عن قلبہ تونے اس کا دل پھاڑ کر کیوں نہ دیکھا - یعنی تجھے کیا معلوم تھا کہ کہ اس نے اظہار اسلام ڈر سے کیا تھا یا سچے دل سے کیونکہ دل کا حال انسان سے پوشیدہ ہوتا ہے - غرض فتوی منہ کی بات پر لگایا جاتا ہے نہ کہ دل کے خیالات پر کیونکہ دل کے خیالات سے صرف اللہ تعالیٰٰ آگاہ ہوتا ہے اور جو بندہ کسی کے دل کے خیالات پر فتوی لگاتا ہے وہ جھوٹا ہے - اور اللہ تعالیٰ کے حضور قابلِ مواخذہ ہے - پس ہم لوگ یعنی جماعت احمدیہ کے افراد جبکہ اپنے آپکو مسلمان کہتے ہیں تو کسی کا یہ حق نہیں کہ وہ یہ فتوی ہم پر لگائے کہ ان کا اسلام صرف دکھاوے کا ہے ورنہ یہ دل سے اسلام کے منکر ہیں یا رسول کریم ﷺنہیں مانتے اور کوئی نیا محکمہ پڑھتے ہیں یا نیا قبلہ انہوں نے بنا رکھا ہے - اگر ہماری نسبت اس قسم کی باتیں کہنی جائز ہیں تو ہم پر اس قسم کے الزامات لگانے والوں کی نسبت ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ ظاہر میں اسلام کا دعوی کرتے ہیں اور اپنے گھروں میں جاکر یہ لوگ حضرت رسول کریم ﷺکو اور اسلام کو نعوذ باللہ گالیاں دیتے ہیں ` مگر ہم