انوارالعلوم (جلد 7) — Page 238
۲۳۸ ان کوبتاؤ کہ یہ آریہ جو آج تم کو چھوت چھات کی تعلیم دیتے ہیں۔دوسری جگہوں میں جاکرنیچ قوموں میں شد ھی کرتے ہیں اور چماروں کو ساتھ ملاتے ہیں اس کے حوالے یاد رکھو (جیسے جموں میں شدهی ہو رہی ہے )لیکن ایسی طرز پر بات نہ کرو کہ گویا تم چھوت چھات کے قائل ہو بلکہ اس بات کا اظہار کرو کہ وہ جھوٹ اور فریب سے کام لے رہے ہیں۔ان کو بتاؤ کہ یہ لوگ تمہارے خیر خواہ نہیں بلکہ دشمن ہیں اس کا امتحان اس طرح ہوسکتا ہے کہ مسلمان عرصہ سے کوشش کر رہے ہیں کہ سود کی شرح محدود کر دی جائے اور قانون انتقالِ اراضی پاس کیا جائے مگر ہندو اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں (ان دونوں قانونوں کو اچھی طرح سمجھ لو) ان دونوں باتوں کا ان کو فائدہ سمجھاؤ اور کہو کہ ان کا امتحان اس طرح ہو سکتا ہے کہ جو آریہ یا ہندو آۓ اسے کہو کہ اگر تم سچ مچ ہمارے خیر خواہ ہو تو یہ دونوں قانون پاس کراؤ پھر ہم سمجھیں گے کہ تم ہمارے خیرخواہو۔۲۳- اپنے دل کو پاک کر کے اور ہر ایک تکبرسے خالی کر کے بیماروں اور مسکینوں کے لئے دعا کرو۔اللہ تعالیٰٰ تمہاری ضرور سنے گا۔انشاء اللہ میں بھی انشاء اللہ تمہارے لئے دعا کروں گا تا خدا تعالیٰ تمہاری دعاؤں میں برکت دے۔۲۴- اپنی زبان کو اس بات کا عادی بناؤ کہ ان بزرگوں کو جن کو فی الواقع ہم بھی بزرگی ہی سمجھتے ہیں ایسے طریق پر یاد کروجو ادب او را خلاص کا ہو۔۲۵۔کھانے پینے پہننے میں ایسی باتوں سے پرہیز کرو جن سے ان لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے الگ جو چاہو کرو لیکن ان کے سامنے ان کے دل کو تکلیف دینے والی بات نہ کرو کے علاوہ تمہارے کام کو نقصان پہنچانے کے یہ بد اخلاقی بھی ہے۔۲۹- ہر ایک کام تدریجی طور پر ہوتا ہے۔یہ مت خیال کرو کہ وہ ایک دن میں پکے مسلمان ہو جائیں گے جو لوگ مسلمان ہو جائیں گے وہ آہستہ آہستہ پختہ ہوں گے پس یک دم ان پر بوجھ ڈالنے کی کوشش نہ کریں تین چار ماہ میں خود ہی درست ہو جائیں گے پہلے تو صرف اسلام سے محبت پیدا کرو اور نام کے مسلمان بنا ؤمگر یہ بھی نہ کرو کہ اسلام کی کوئی تعلیم ان سے چھپاؤ کیونکہ اس سے بعد میں ان کو ابتلاء آوے گایا وہ ایک نیاہی دین بنالیں گے۔۲۷- لباس وغیرہ ان کے بیٹے ہیں ویسے ہی رہنے دو اور ابھی چوٹیاں منڈوانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔یہ باتیں ادنی ٰدرجہ کی ہیں جب وہ پکے مسلمان ہو جائیں گے خود بخود ان