انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 207

۲۰۷ چونکہ ان لوگوں کو اسلام سے ظاہری تعلق ہو گا اس لئے اس تعلق کی وجہ سے ان کو دکھ اور تکالیف پہنچیں گی اور ان سے ان کو کوئی بچانے والانہ ہو گا۔ان کے اندر حقیقی اسلام نہیں ہو گا کہ خدا تعالیٰ بچائے اور ظاہر میں چونکہ مسلمان کہلاتے ہوں گے اس لئے دوسرے لوگ ان کو تکالیف اور دکھ پہنچائیں کے ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا(92)حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًاۙ-لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا۔پھروہ آگے چلے گا اور وہاں ایک تیسری قوم ہوگی۔یہ وہ قوم ہے جس کا آج کل جھگڑا پڑاہواہے وہ وہاں پہنچے گا جہاں غیرمذاہب اور اسلام کی سرحد ملتی ہے وہاں ایسی قوم ہوگی جو بالکل جاہل ہو گی اور ایسی جاہل ہوگی کہ نہ اسلام کو سمجھتی ہوگی نہ کسی اور مذہب کو۔گویا وہ بھی ہندوؤں کے قریب ہوگی کہ مسلمانوں کے۔چنانچہ وہ لوگ ایسے ہی ہیں۔ختنہ کراتے ہیں مگر گائے کا گوشت نہیں کھاتے۔نکاح پڑھواتے ہیں مگر بت بھی گھروں میں رکھے ہوئے ہیں۔لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا جو ان کے متعلق آیا ہے بالکل اسی کا ترجمہ وہ فقره ہے جو مولوی محفوظ الحق صاحب نے ان لوگوں کے متعلق لکھا ہے کہ وہ بات تک نہیں سمجھ سکتے۔قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا ان لوگوں میں جو تعلیم یافتہ ہوں گے اور ہیں جو شورمچا رہے ہیں کہ ان لوگوں کو بچاؤ وہ شور مچائیں گے۔یا یہ بھی اس کا مطلب ہے کہ پہلی قوم کے لوگ کہیں گے کہ اے ذوالقرنین یا اس کی جماعت یاجوج و ماجوج ان لوگوں کو کھینچے لئے جارہے ہیں ان کو بچاؤ - ہندو بھی یاجوج و ماجوج میں شامل ہیں۔وہ لوگ یعنی مسلمان حضرت مسیح موعود کی جماعت کو کہیں گے کہ یاجوج و ماجوج فسادمچارہے ہیں ان سے ان لوگوں کو بچاؤ خرچ ہم دیتے ہیں ہندوؤں اور ان کے درمیان روک کھڑی کردو۔چنانچہ غیراحمدی لکھ رہے ہیں کہ احمدی کیوں ان لوگوں کو نہیں بچاتے۔قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًا وہ کہے گا تمہاری مدد پر بھروسہ کرنالغو ہے۔خداتعالی ٰنے مجھے نکتہ سمجھایا ہے اور وہی میری مدد و نصرت کرے گا اور وہی ان لوگوں کو بچا سکتاہے اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِؕ ہاں تم ظاہری شوکت سے مدد دے سکتے ہو۔اس سے اگر مدد دو تو تمہارے لئے موجب ثواب ہوگی لیکن اصل فتح خدا تعالیٰ ہی کی نصرت اور جذب دعاسے ہوگی۔میرے پاس تم اپنے لوہے کےٹکڑے لاؤ یعنی مجھے دو چیزوں کی ضرورت ہے۔ایک تو قلموں کی چونکہ یہ ہولڈروں سے لکھ سکتا ہے جو لوہے کے ہوتے ہیں اس لئے لوہے کے ٹکڑے سے یہی