انوارالعلوم (جلد 7) — Page 133
۱۳۳ تقریر دوم (جلسہ لجنہ اماءالله منعقده مورخہ اا۔فروری ۱۹۲۳ء) میں نے پچھلے ہفتہ مذہبی علوم کے متعلق تقریر کی تھی اس میں مذہبی علوم کے نام اور ان کی مختصر کیفیت بیان کی تھی اور اس میں بتایا تھا کہ مذہبی علوم میں ان مختلف عنوانوں کے نیچے بحث کی جاتی ہے یا اس مذہب کی یہ حقیقت ہے۔میری غرض اس سے یہ نہ تھی کہ وہ علم کیا ہے اور کیسا ہے بلکہ صرف اتنا بتاناہے کہ اس قسم کا ایک علم ہے اس مطلب کے بیان کرنے کے لئے جس قدر ضروری تھابیان کیا اور اب بھی ایسا ہی کروں گا اس سے زیادہ بیان کرنا موضوع سے باہر لے جاتا ہے۔آج میرا منشاء یہ ہے کہ دنیاوی علوم کے متعلق بیان کروں کہ وہ کتنے قسم کے ہیں اور کیا کیا ہیں اور اگر کسی علم کی کوئی اندرونی تقسیم ہے تو وہ بھی بیان کروں کہ کن کن مسائل پر اس میں بحث ہوتی ہے۔میں نے پہلے بھیجا تھا اور آج بھی بتاتا ہوں کہ علم سے ہرگز یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہ سچے ہی ہوں۔بعض باتیں جہالت بھی ہوتی ہیں مگر عام طور پر وہ ایک علم کی ذیل میں آجاتی ہیں۔جس طرح مذاہب میں (مذاہب ہی کہنا چاہئے کیونکہ اصل میں تو ایک ہی مذہب ہے جو اسلام ہے میں نے ہندو مذہب اور دوسرے مذاہب کا ذکر کیا ہے حالانکہ میری غرض اس سے یہ نہ تھی کہ یہ مذاہب خدا تک پہنچاتے ہیں کیونکہ خدا تک پہنچانے والا صرف ایک ہی مذہب ہے جو اسلام ہے لیکن اسلام کی خوبی اور کمال کے جاننے کے لئے دوسرے مذاہب کا بھی مختصر علم تو ہو کہ وہ کیا ہیں؟ دنیاوی علوم اسی طرح آج جب میں دنیاوی علوم کے نام لوں گا تو یہ مطلب نہیں ہو گا کہ واقعی ہر ایک علم ہے۔صرف یہ مطلب ہوگا کہ بعض اس کو علم کہتے ہیں۔جیسے اسلام کے مقابلہ میں ہندوؤں کے عقائد بتانے سے یہ فرض ہے کہ یہ معلوم ہو جائے اس میں کیا