انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 56

۵۶ اسلامی نقطہ نگاہ کی رو سے نجات ادنیٰ ہے اور وہ مقصد اعلیٰ۔وہ کیا ہے؟ وہ وہی ہے جو ان آیات میں بتایا گیا ہے جو میں نے ابتداء میں پڑھی ہیں یعنی فلاح – اسلام کہتا ہے اصل کامیابی بچ جانا نہیں اور تکلیف اور دکھ سے بچ جانا کوئی بڑی بات نہیں۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ فلاں بڑا بہادر جرنیل ہے جو دشمن سے بچ کر بھاگ آیا۔بھاگ آنا بھی کسی موقع پر اچھی بات ہوتی ہے مگر اس سے اعلیٰ بات یہ ہے کہ دشمن کو پکڑ بھی لے۔اسلام نجات کی بجائے فلاح بتاتاہے اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ صرف نجات کے حصول کی کوشش نہ کرو بلکہ فلاح کے لئے کوشش کرو اور نجات اسی میں آجاتی ہے۔کیونکہ جب انسان دشمن کو مار کر اس پر کامیابی حاصل کرے گا تو اس کے حملے سے بھی بچ جائے گا۔ایک ایسا شخص جس کو بھوک نہیں وہ اس کی تکلیف سے بچاہوا ہے۔مگر ایک ایسا شخص جس نے ایسا کھانا کھایا جس سے جسم نے طاقت حاصل کی تو وہ بھوک سے بھی بچا ہوا ہو گا۔تو کامیابی میں نجات آپ ہی آجاتی ہے اسی لئے اسلام نے انسان کا اصل مقصد فلاح کو قرار دیا ہے۔ہاں کبھی کبھی نجات کا لفظ فلاح کے لئے بولتے ہیں عام محاورہ کی وجہ سے کیونکہ عام لوگ نجات ہی کالفظ استعمال کرتے ہیں۔پس نجات فلاح کے نیچے کا درجہ ہے اور جس کو فلاح حاصل ہوگئی اسے نجات بھی حاصل ہو گئی کیونکہ جو شخص تین سیڑھیاں چڑھ گیاوه دو آپ چڑھ گیا۔فلاح کیا ہے؟ اب میں بتاتا ہوں کہ فلاح کیا ہے؟ میں نے اسلام کی نجات کی تعریف نہیں کی کیونکہ اسلام فلاح کو پیش کرتا ہے نجات کو پیش نہیں کر تااس لئے میں اب فلاح کی تعریف کرتا ہوں۔اسلام کے نزدیک قلاح یا دوسرے لفظوں میں نجات کیا ہے؟ اسلام کرتا ہے۔یہ نجات نہیں کہ تم دوزخ کی سزا سے بچ جاؤ گے بلکہ انسان جس غرض کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس کو حاصل کرلینا فلاح ہے اور چونکہ انسان اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ خدا سے ملے اس لئے نجات یہ ہے کہ خدا تعالی ٰکے ملنے کی جو تڑپ اور آگ انسان کے دل میں لگی ہوئی ہے اس سے بچ جاۓ اور خدا تعالیٰ سے مل جائے۔انسان کے اندر ایک تڑپ رکھی گئی ہے الست بربكم قالوابلی میں جس کی طرف اشارہ ہے۔اس تڑپ کا پورا ہو جاتا اور اس سےبچ جانا نجات ہے۔اس تڑپ سے انسان بچ کس طرح سکتا ہے؟ جس طرح عاشق معشوق سے مل کرہی تڑپ سے بچ سکتا ہے نہ کہ