انوارالعلوم (جلد 7) — Page 49
۴۹ پس کسی بات کا شوق پیدا کرنے کے لئے چونکہ اس کے عملی پہلو پر روشنی ڈالنا ضروری ہوتا ہے اس لئے میں اس مضمون کے دونوں پہلوؤں پر روشنی ڈالوں گا۔یعنی اس کا علمی پہلو بھی بیان کروں گا اور عملی بھی۔درس القرآن کے متعلق اعلان مگر پیشتر اس کے کہ اصل مضمون شروع کروں ایک بات بتانا ضروری سمجھتاہوں اور وہ بھی نجات کاہی حصہ ہے اور وہ یہ کہ اس سال جو احمدیہ کانفرنس ہوئی تھی اس میں اس سوال پر کہ جماعت کو علم کس طرح پڑھایا جائے میں نے کہا تھا کہ ایک ماہ میں پندرہ پارے قرآن کریم کے پڑھادوں گا اور پھر اگلے سال باقی پند رہ پارے پڑھا کر پڑھنے والوں کو اس بات کے لئے تیار کر دوں گا کہ اپنے اپنے مقامات پر درس جاری کر سکیں۔اس تجویز کے مطابق اس سال سو کے قریب احباب پڑھنے کے لئے آئے تھے۔یہ تعداد بلحاظ اس کے کہ پہلا سال ہونے کی وجہ سے تیاری کا کم موقع ملا بہت کچھ تسلی کا باعث ہے اور جس شوق سے آنے والوں نے پڑھا ہے وہ ایسا تسلی بخش تھا کہ جس سے بہت ہی خوشی ہوئی۔میں روزانہ سات گھنٹے کے قریب پڑھاتا تھا۔اس کے علاوہ صرف و نحو مولوی سرور شاه صاحب پڑھاتے تھے۔میر محمد اسحاق صاحب نے بھی ضروری لیکچروں کا سلسلہ شروع کیا ہوا تھا جو روزانہ ہوتے تھے پھر پڑھنے والوں کا روزانہ امتحان لیا جاتا تھا۔جس کا یہ مطلب ہے کہ انہیں سات گھنٹے سبق پڑھ کر پھر اس کو یاد بھی کرنا ہوتا تھا اور اس کے علاوہ اور مضامین کی بھی تیاری کرنی ہوتی تھی۔میں نے سنا اور مجھے معلوم ہواہے کہ ان گرمی کے دنوں میں احباب راتوں کو دیر تک سبق یاد کرتے رہتے تھے۔اس طرح دس پارے ایک ماہ میں ہو سکے پند رہ نہ ہو سکے مگر میں نے وعدہ کیا ہے کہ آئندہ سال انشاء اللہ بیسں پورے کر دوں گا۔اس موقع پر میں نے اس بات کا اس لئے کہ کیا ہے کہ پہلے پر آنے والے احباب یہ بات سن لیں اور ابھی اسے پڑھنے کی تیاری کرلیں۔قرآن کریم کے اس طرح پڑے سے جس قدر فائدہ ہو سکتا ہے وہ اور طرح نہیں ہو سکتا۔اور بہت لوگ جو کہتے ہیں کہ قادیان کے روزانہ درس سے ہم فائدہ نہیں اٹھا سکتے ان کے لئے میں نے سال میں ایک مہینہ خاص درس کے لئے رکھ دیا ہے اور اس طرح دو سال کے دو مہینوں میں سارا قرآن ختم کردینے کا انتظام کیا گیا ہے۔دیکھو اب یہ کتنی آسان بات ہوگئی ہے۔فی الحال اس درس میں شامل ہونے کے لئے میں زیادہ زور انہیں کے متعلق دیتا ہوں جو اس سال آئے تھے وہ اگلے