انوارالعلوم (جلد 7) — Page 48
۴۸ مسئلہ نجات وہ مضمون کیا ہے؟ وہ نجات کا مضمون ہے۔دراصل انسان کو جو سب سے بڑی چیز مطلوب ہے وہ نجات کی ہے۔دنیا کی وہ چیزیں جو بڑی شاندار نظر آتی ہیں۔اگر نجات نہیں تو کچھ بھی نہیں۔مشہور ہے جان ہے توجہان ہے۔ایک بیمارجو درد سے تڑپ رہا ہو وہ ستاروں اور جوّپر غور کر کے لطف نہیں اٹھا سکتا، وہ سبزہ زار کودیکھ کرکر حظ نہیں حاصل کرسکتا،وہ مختلف علوم سے دلچسپی نہیں لے سکتا کیونکہ وہ خود دکھ میں ہے۔یہی مضمون ہے جو میرے ان اشعار میں سے ایک میں اداکیاگیا ہے جو کل پڑھے گئے ہیں۔وہ شعر ہے۔: خلق و تکوین جہاں راست پہ سچ پوچھو تو بات تب ہے کہ مری بگڑی بنائے کوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ میں منتا ہوں خدا خالق ہے مگر میرے نقطہ خیال سے زمین و آسان کا بناناتب ہی فائدہ مند ہے جب کہ میری بگڑی بھی وہ بنا دے۔اگر یہ نہیں تو زمین و آسمان کابنا نا مجھ پر اثر نہیں ڈال سکتا۔تو یہ مضمون جو آگے میں بیان کرنے لگا ہوں ہمارے نقطہ نگاہ سے سب سے اہم ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ احباب اسے غور سے سنیں گے کیونکہ وہ ان کی نجات سے تعلق رکھتا اور نجات کے لئے مفید ہے۔مضمون کا علمی اور عملی پہلو اس میں شک نہیں کہ جب کسی مضمون کو بیان کیا جاتا ہے تو اس کا علمی پہلو بھی لیا جاتا ہے اور عملی پہلو بھی۔عملی پہلو بیان کرنے کی اس لئے ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی مضمون علمی پہلو بیان کرنے کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔کسی کام کو کرنے کے لئے کئی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ایک تو یہ کہ اس کے کرنے کا شوق ہو۔ایک ہی کام کو کئی لوگ کرتے ہیں مگر کچھ ہی لوگ اس میں بڑھتے اور امتیاز حاصل کرتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جو بڑھتے ہیں ان کو اس کام کے کرنے کا شوق ہوتا ہے اور دوسروں کو نہیں ہوتا۔جن کو شوق ہوتا ہے وہ پورے طور پر اس کے کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر دوسرے ایسا نہیں کرتے لیکن شوق علم کی تکمیل سے ہی پیدا ہوتا ہے۔دیکھو جس شوق سے ایک کا لج کالڑ کا پڑھتا ہے سکول کا لڑکا نہیں پڑھتا۔عام طور پر کالج کا لڑکا فارغ پھرتا نظر آتا ہے حالانکہ اس کے کورس کی کتابیں حجم کے لحاظ سے سکول کے لڑکے کی کتابوں سے بھی ہوتی ہیں مگر وہ شوق کی وجہ سے جلدی علم حاصل کرتا ہے بہ نسبت سکول کے لڑکے کے اس لئے وہ فرصت نکال لیتا ہے۔