انوارالعلوم (جلد 7) — Page 564
۵۶۴ الہام کی مہر کنندہ کروائی۔اس طرح سینکڑوں آدمی اس الہام سے واقف ہو گئے اس الہام کی حقیقت کو اور زیادہ واضح کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ سامان کیا کہ آ پ کے خاندان ہی میں سے بہت سے دعوے دار کھڑے ہو گئے آپ کے بڑے بھائی جائیداد کے منتظم تھے- ان کا رشتہ داروں سے کچھ اختلاف ہو گیا- آپ ؑنے ان کو مشورہ دیا کہ ان سے حسن سلوک کرنا چاہئے` مگر انہوں آپؑ کے مشورہ کو قبول نہ کیا- آخر عدالت تک نوبت پہنچی اور انہوں نے آپ ؑسے دعا کے لئے کہا آپؑ نے دعا کی تومعلوم ہوا کہ شرکاء جیتیں گے اور آپ کے بھائی صاحب ہاریں گے- آخر اسی طرح ہوا` جائیداد کا دو تہائی سے زائد حصہ شرکاء کو دیا گیا اور آپ کے بھائی صاحب اور آپ کے حصے میں نہایت قلیل حصہ آیا- گو یہ جائیداد جو آپ کے حصہ میں آئی آپ کی ضروریات کے لیے تو کافی تھی` مگر جو کام آپ کرنے والے تھے اس کے لیے یہ آمدن کافی نہ تھی` اس وقت اسلام کی اشاعت کے لیے اس عظیم الشان کتاب کی تیاری میں مشغول تھے- جس کا نام براہین احمدیہ ہے اور جس کے لیے مقدر تھا کہ مذہبی دنیا میں ہل چل مچادے اور اس کتاب کی اشاعت کے لیے ایک رقم کثیر کی ضرورت تھی- اس نا امیدی کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے امید کے دروازے کھول دئیے اور ایسے لوگوں کے دلوں میں تحریک پیدا کر دی جو دین سے چنداں تعلق نہیں رکھتے اور اس کتاب کی اشاعت کے لیے سامان بہم پہنچا دیا` مگر اس کتاب کے چار حصے ہی ابھی شائع ہوئے تھے کہ اخراجات اور بھی بڑھ گئے- کیونکہ جس طرف سے آپ حملے کا رخ پھیرنا چاہتے تھے ادھر سے رخ پھر گیا` مگر خود آپ کے خلاف لوگوں میں جوش پیدا ہو گیا اور کیا ہندو اور کیا مسیح اور کیا سکھ صاحبان سب مل کر آپ پر حملہ آور ہوئے اور آپ کے الہامات پر تمسخر شروع کر دیا` ان کی غرض تو یہ تھی کہ ان الہامات کی عظمت کو صدمہ پہنچے تو وہ اثر جو آپ کی کتابوں سے لوگوں کے دلوں پر پڑا ہے زائل ہو جائے اور اسلام کے مقابلے پر ان کو شکست نصیب ہو` مگر مسلمانوں میں سے بھی بعض حاسد آپ کی مخالفت پر کھڑے ہو گئے اور گویا ایک ہی وقت میں چاروں طرف سے حملہ شروع ہو گیا اور اس بات کا آسانی سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جس شخص پر اپنے اور بیگانے حملہ آور ہو جائیں اس کے لئے کیسی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے- پس لوگوں کے اعتراضات کا جواب دینے اور اسلام کی شان کو قائم رکھنے کے لیے کثیر مال کی ضرورت پیش آئی اور اللہ تعالیٰ نے اس کا بھی سامان پیدا کر دیا- اس کے بعد تیسرا تغیر شروع ہوا- یعنی اللہ تعالیٰ نے