انوارالعلوم (جلد 7) — Page 485
۴۸۵ اور ہر طرح اللہ تعالیٰ سے مدد ونصرت پاتے رہے- اگر مفتری علی اللہ بھی اس قدر مہلت پا سکتا ہے اور ہلاکت سے بچایا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے نصرت پاتا ہے تو پھر نعوذ باللہ من ذالک یہ ماننا پڑے گا کہ ولو تقول والی آیت میں جو معیار بتایا گیا ہے وہ غلط ہے اور یہ کہ رسول کریم ﷺکا دعویٰ بے ثبوت رہا ہے- اگر یہ بات نہیں اور ہرگز نہیں تو پھر اسی دلیل کے ماتحت حضرت اقدسؑ علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنے الہامات شائع کرنے کے اس قدر عرصہ بعد تک ہلاکت سے بچایا جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھے- جس وقت آپ نے اپنے الہامات شائع کئے تھے اس وقت آپ کا نام دنیا میں کوئی شخص بھی نہیں جانتا تھا مگر اس کے بعد باوجود لوگوں کی مخالفت کے آپ کو وہ عزت اور رتبہ حاصل ہوا کہ دشمن بھی اب آپ کی عزت کرتے ہیں اور آپ ایک مسلم لیڈر تسلیم کئے جاتے ہیں گورنمنٹ برطانیہ جو ابتدا آپ کی مخالف تھی اور آپ سے بدظن تھی آپ کو عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے- دنیا کے دور کناروں تک آپ کا نام پھیلا ہے اور اس قسم کا عشق رکھنے والے اور محبت رکھنے والے لوگ اللہ تعالیٰٰ نے آپ کو عطا فرمائے ہیں کہ وہ اپنی جان تک آپ پر قربان کرنے کے لیے تیار ہیں اور یوروپین جو اسلام کے دشمن تھے انہوں نے آپ کے ذریعے سے اسلام کو قبول کیا ہے اور آپ کی محبت میں اس قدر سر شار ہیں کہ ان میں سے ایک شخص نے مجھے لکھا ہے کہ مجھ پر مرزا صاحب نے احسان کیا ہے کہ ان کے ذریعے سے مجھے اسلام جیسی نعمت عطا ہوئی ہے اس کا اثر مجھ پر اس قدر ہے کہ میں سوتا نہیں جب تک آنحضرت کے ساتھ آپ پر بھی درود نہیں بھیج لیتا- یہ عزت اور یہ احترام اور یہ محبت باوجود لوگوں کی اس قدر مخالفت کے کبھی حاصل نہیں ہو سکتی اگر آپ مفتری علی اللہ تھے- آپ نے جب دعویٰ کیا تو آپ اکیلے تھے لیکن باوجود اس کے کہ مولویوں، پیروں، گدی نشینوں ،پنڈتوں ،پادریوں ،امیروں، عام لوگوں اور شروع شروع میں حکام نے بھی اپنا زور لگایا کہ لوگ آپ کی بات کو نہ مانیں اور آپ کے سلسلے میں داخل نہ ہوں- ایک ایک کر کے لوگ آپؑ کے سلسلہ میں داخل ہونے شروع ہوئے- غرباء میں سے بھی اور امراء میں سے بھی علماء میں سے بھی صوفیاء میں سے بھی اور دوسرے ممالک کے لوگوں میں سے بھی اور ہندوؤں اور عیسائیوں میں سے بھی' ہندوستانیوں میں سے بھی اور دوسرے ممالک کے لوگوں میں سے بھی یہاں تک کہ آپ کی وفات کے وقت آپ ؑکی جماعت ہزاروں سے نکل کر لاکھوں تک ترقی کر چکی تھی اور اب