انوارالعلوم (جلد 7) — Page 30
۳۰ لوگ بچوں کے سامنے گالیاں دیتے رہتے ہیں جس سے بچوں کے اخلاق خراب ہو جاتے ہیں۔تمہیں چاہئے کہ تم مومن بنو اور کوئی ایسالفظ زبان پر جاری نہ ہو جو فحش ہو۔(9) ناواجب طرفداری ایک عیب ناواجب طرفداری بھی ہے جو کثرت سے پایا جاتا ہے۔دو آدمی لڑ رہے ہوں جن میں سے ایک سے کسی کا کچھ رشتہ ہو تو وہ بغیر تحقیقات کے اپنے رشتہ دار کی مدد کرنے لگ جاتا ہے حالانکہ یہ مومن کا کام نہیں ہے۔ممکن ہے وہی ظالم ہو جس کی طرفداری کر رہا ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے انصر أخاك ظالم او مظلوما کہ اپنے بھائی کی مدد کروہ ظالم ہو یا مظلوم۔پوچھا گیا مظلوم کی تو مدد ہوئی ظالم کی مدد سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا۔ظالم کی یہ مدد ہے کہ اس کو ظلم کرنے سے بچا! تو ناواجب طرفداری سے بچنا چاہئے اس سے انسان بڑے بڑے گناہوں میں مبتلاء ہو جاتا ہے۔میں اپنے متعلق سناتاہوں۔ایک شخص میرے پاس آتا ہے اور اچھی باتیں سناتا ہے کہ فلاں نے مجھ سے یہ کیا وہ کیا اور وہ کہتا ہے کہ میں بھی اس کی باتیں سن کر اس شخص سے ناراض ہو جاؤں گا جس سے وہ ناراض ہے۔مگر جب میری طرف سے وہ کوئی ایسی بات نہیں دیکھتا اور میں اسے کہتا ہوں کہ اچھامیں تحقیقات کروں گا تو کئی ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کو جا کر کہتے ہیں کہ ہم نے خلیفہ کو بھی سنایا مگر اس نے بھی کچھ نہ کیا۔حالانکہ میرا فرض یہ بھی ہے کہ میں دوسرے کے بیان کو بھی سنوں۔مگر چو نکہ بیجا طرفداری کی مرض اس قدر بڑھی ہوئی ہے اس لئے وہ مجھ سے بھی یہی امید رکھتے ہیں کہ میں بھی ایسا ہی کروں۔(۱۰) رشوت ایک عیب رشوت بھی ہے اور مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض لوگ اس میں مبتلاء ہیں۔یاد رکھو کہ ہر ایک ملازم پر اللہ تعالیٰ ٰاور اس کی طرف سے جس کا وہ لازم ہے فرض ہے کہ اپنی ملازمت کے حقوق ادا کرے اور رشوت لینے اور دینے والا دونوں گنہگا ر ہیں۔رسول کریم ﷺنے اس کو بہت بڑاعیب قرار دیا ہے اور قرآن کریم میں بھی آتا ہے وتدلوابها الى الحكام - اس کے یہ معنی بھی ہیں کہ جھوٹے مقدمے عدالتوں میں نہ لے جاؤ اور یہ بھی کہ رشوت کے ذریعے اپنے کام نہ کر اؤ۔مجھے افسوس کے ساتھ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ بعض محکموں والے اس عیب سے بری نہیں ہیں۔ہر ایک محکمہ والے اور خاص کر نہر اور پولیس کے محکمہ والوں کو اس سے بچنے کے لئے خاص کوشش کرنی چاہئے۔ایک شخص نے مجھے خط لکھا کہ میں احمدی ہو نا چاہتا ہوں مگر میں چونکہ رشوت لیتا رہا ہوں