انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 478

۴۷۸ اب جناب اس سے معلوم کر سکتے ہیں کہ حضرت اقدسؑ نے اسلام کے اندر جس قدر نقائص پیدا کر دئیے گئے تھے خواہ عقائد میں خواہ اعمال میں سب کو دور کر دیا ہے اور اسلام کو پھر اس کی اصل شکل میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے جس سے اب وہ سب دوست ودشمن کے دلوں کو لبھانے لگ گیا ہے اور اس کی قوت ِقدسیہ پھر اپنا اثر دکھانے لگ گئی ہے- اے بادشاہ! جس قدر نقائص اوپر بغور مثال بیان ہوئے ہیں جو ان بہت سے نقائص میں سے چند ہیں جو اس وقت مسلمانوں میں پیدا ہو چکے ہیں آپ ان کو دیکھ کر ہی معلوم کر سکتے ہیں کہ ایک محفوظ کتاب کی موجودگی میں جیسا کہ قرآن کریم ہے اس سے زیادہ مفاسد اسلام میں نہیں پیدا ہو سکتے- اگر اس سے زیادہ مفاسد پیدا ہونگے تو اسی صورت میں کہ قرآن کریم ہی نعوذ باللہ من ذلک بدل جائے'مگر یہ ناممکن ہے پس اور مفاسد بھی پیدا ہونے ناممکن ہیں- اب غور کرنا چاہئیے کہ جب اسلام کے اندر مفاسد اپنی انتہاء کو پہنچ گئے ہیں تو اور کونسا وقت ہے جب کہ مسیح موعود آئں گے اور جب کہ ان تمام مفاسد کی اصلاح حضرت اقدسؑ مرزا غلام احمد علیہ الصلوہ والسلام نے کر دی ہے اور اسلام کو ہر ایک شر سے محفوظ کر دیا ہے تو پھر کسی کے آنے کی کیا ضرورت ہے جب کہ وہ کام مسیح موعود کے لیے اور صرف حضرت مسیح موعود کے لیے مقدر تھا آپ نے باحسن وجوہ پورا کر دیا ہے تو آپ کے مسیح موعود ہونے میں کیا شک ہے- جب سورج نصف النہار پر آجائے تو پھر اس کا انکار نہیں ہو سکتا اسی طرح ایسے واضح دلائل کی موجودگی میں حضرت مرزا صاحب کے مسیح موعود ہونے کا انکار نہیں کیا جا سکتا- چھٹی دلیل نصرت الٰہی چھٹی دلیل آپ کی صداقت کی کہ یہ دلیل بھی درحقیقت بہت سے دلائل پر مشتمل ہے نصرت الٰہی مامورومرسل درحقیقت اللہ تعالیٰ کے پیاروں میں سے ایک پیارا ہوتا ہے اور اس کی صداقت ثابت نہیں ہو سکتی جب تک کہ خدا تعالیٰ کا اس کے ساتھ وہ سلوک نہ ہو جو