انوارالعلوم (جلد 7) — Page 476
۴۷۶ اسی طرح آپؑ نے بتایا کہ احکام اسلام انسان کی تکمیل کا بہترین ذریعہ ہیں اور ہر زمانے اور ہر علمی حیثیت کے لوگوں کے لئے یکساں مفید ہیں اور ان کے بغیر کوئی روحانی ترقی نہیں ہوسکتی۔پس یہ غلط ہے کہ اب ان احکام پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔یا یہ کہ ان کا قائمقام اور کاموں کو قرار دیا جا سکتا ہے۔اسی طرح آپؑ نے تبا یا کہ ایک عبادات اور سنتیں ہیں اور ایک رواج ملکی اور دستورِ قومی عبادت اور سنت کے علاوہ ایسی باتوں میں جن کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ملکی رواج اور قومی دستور کے مطابق کرتے تھے لوگوں کو مجبور کرنا کہ وہ بھی آپ ہی کی طرزکو اختیار کریں ظلم ہے خود صحابہ ان امور میں مختلف طریقوںکواختیار کرتے تھے اور کوئی ایک دوسرے کو برا نہ کہتا تھا۔آپؑ نے ان لوگوں کے خیالات کو بھی ردّ کیا جو یہ خیال کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے جیسے انسان ہیں اور آپؑ کا کوئی حق نہیں کہ ہم آپؐ کی اطاعت کریں۔آپؑ نے بتا یا کہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء اللہ تعالیٰ کے کلام کا ایک خاص فہم پاتے ہین جو دوسروں کو حاصل نہیں ہوتا اس لئے ان کی تشریح کا قبول کرنا مومن کا فرض ہوتا ہے ورنہ ایمان سبب ہو جاتا ہے۔آپؑ نے اس خیال کی بھی غلطی ظاہر کی کہ جو کچھ کسی بزرگ نے کہدیا اس کا تسلیم کرنا ہمارے لئے ضروری ہے ایسے لوگوں کے لئے جو اجتہاد کا مادہ نہیں رکھتے سہولتِ عمل کے لئے بیشک ضروری ہے کہ وہ کسی نہ کسی بزرگ کو جس کی صداقت اور تقویٰ اور علمیت اُن پر ظاہر ہوگئی ہے اپنا رہبر بنالیں لیکن اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ ہر شخص کو خواہ وہ علم اور فہم رکھتا ہو ایسا ہی کرنا چاہئے اور اگر وہ دوسرے کی اندھا دُھند تقلید نہیں کرتا تو گنہگار ہے بلکہ علم رکھنے والے شخص کو چاہئے کہ جس بات کو وہ قرآن و حدیث کی نصوص سے معلوم کرے اُس میں اپنے علم کے مطابق عمل کرے۔آپؑنے اس خیال کو لغویت کو بھی ظاہر کیا کہ محض دنیاوی باتوں کو دینی بنا لیا جائے آپؑ نے بتا یا کہ زبانیں سب خدا کی ہیں جو زبان مفید ہو اس کو سیکھنا چاہئے اور جس قدر علوم انسان کی جسمانیؔ، اخلاقیؔ،تمدنیؔ،سیاسیؔ ،روحانیؔ حالت کے لئے مفید ہیں ان کو پڑھنا نہ صرف یہ کہ گناہ نہیں ہے بلکہ ضروری ہے اور بعض حالتوں میں جبکہ اُن کو خدمتِ دین کے لئے سیکھا