انوارالعلوم (جلد 7) — Page 459
۴۵۹ عشق میں مبتلا ہو سکتی ہے اور اللہ کو بھلا کر عذابِ الٰہی میں مبتلا ہو سکتی ہے۔اگر ملائکہ گناہ میں مبتلا ہوسکتے ہیں تو ان پر ایمان لانے کا حکم کیوں دیا جات ہے۔کیونکہ ایمان لانے کے تو معنی ہی یہ ہوتے ہیں جس پر ایمان لایا جائے اس کی باتوں کا مانا جائے۔جو لوگ نافرمانی کر سکتے ہیں ان پر ایمان لانے کا حکم دینا گویا خود ہلاک ہونے کا حکم دینا ہے۔اسی طرح آپ ؑ نے بتایا کہ ملائکہ روحانی وجود ہیں وہ اِدھر اُدھر دوڑے دوڑے نہیں پھرتے بلکہ جس طرح سورج اپنی جگہ سے روشنی دیتا ہے وہ بھی اپنے مقام سے اللہ تعالیٰٰ کے احکام کو بجالاتے ہیں اور ان طاقتوں کی مددد سے جو ان کی اطاعت میں لگائی گئی ہیں سب کام کرتے ہیں۔اور آپؑ نے اس خیال کو بھی ردّ کیا ہے کہ ابلیسؔ ملائکہ کا استاد یا یہ ملائکہ کے ساتھ رہنے والا وجود تھا وہ تو ایک خبیث رُوح تھی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ (بقرہ ع۴) اس کا دل پہلے ہی اللہ تعالیٰ کا منکر تھا۔آپؑ نے اس خیال کی غلطی کو بھی دُور کیا کہ ملائکہ وہمی وجود ہیں یا طاقتوں کو کہتے ہیں۔آپؑ نے اپنے تجربہ اور مشاہدہ کی بناء پر ملائکہ کا وجود ثابت کیا اور ان لوگوں کی جہالت کو ظاہر کیا جو اس بات کو مانتے ہیں کہ ظاہری آنکھوں کی مدد کے لئے اللہ تعالیٰ نے سورج کو پیدا کیااور آواز پہنچانے کے لئے ہوا کو بنایا اور اس سے اللہ تعالیٰٰ کے قادر ہونے پر حرف نہیں آیا لیکن کہتے ہیں کہ روحانی امور کے سرانجام دینے کے لئے اس نے اگر کوئی وسائط پیدا کئے ہیں تو اس سے اس کی قدرت پر حرف آتا ہے اور خود ان کے عقید ے سے ان کو ملزم قرار دیا اور ان کے اقرار سے ان کو پکڑ ا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰٰ کا وسائط کو پیدا کر نا اس لئے نہیں کہ وہ اپنے احکام کو بندے تک پہنچا نہیں سکتا، بلکہ اس لئے ہے کہ بندہ اللہ کا کلام سنیے کے لئے وسائط کا محتاج ہے اور اس لئے کہ یہ وسائط بندے کی ترقیات میں ممد اور معاون ہوتے ہیں، غرض آپ نے ایمان کے دوسرے رکن کے متعلق جو خرابیاں مسلمانوں میں پیدا ہوگئی تھیں ان کو خوب اچھی طرح دور کیا اور ملائکہ کے وجود کو اس صورت میں ظاہر کیا جس صورت میں کہ اللہ اور اس کے رسول نے ان کو پیش کیا تھا۔تیسر۳ارُکن ایمان کا کتب سماویہ ہیں ان کی نسبت بھی مسلمانوں کے ایمان بالکل متززل ہو چکے تھے اور عجیب در عجیب خلایات مسلمانوں میں کتب سماویہ خصوصاً قرآن کریم کے متعلق پیدا