انوارالعلوم (جلد 7) — Page 457
۴۵۷ دوسری آیات کے اور ایک بندے کے شان کے مطابق ہوں، نہ کہ وہ معنے کریں جو محکمات کے خلاف اور اللہ تعالیٰ کی شان کے منافی ہوں اور مُوحد کہاتے ہوئے شرک میں مبتلا ہوں۔یہ وہ خطر ناک عقائد ہیں جو اس وقت مسلمانوں میں خواہ عالم ہو ، یاجاہل اورخواہ مقلد ہوںیا غیر مقلد، سنی ہوں یا شیعہ پھیلے ہوئے ہیں اور ان کی موجود گی میں کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ مسلمان لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ کے مضمون پر قائم ہیں۔بیشک اس وقت بھی لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہ مسلمانوں کے منہ پر جاری ہے، لیکن مذکورہ بالا عقائد کی وجہ سے وہ اس کے مفہوم سے اسی قدر دور جا پڑے ہیں جس قدر کہ اور مشرک اقوام ، اس تما م گمراہی اور ضلالت کے متعلق حضرت اقدسؑ مرزا غلام احمدعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے آکر جو تعلیم دی وہ ایسی موحد انہ اور اللہ تعالیٰٰ کاجلا ل قائم کرنے والی ہے کہ اس کو مان کر انسان کا دل محبت الٰہی سے بھر جاتا ہے اور شرک کی آگ سے انسان بالکل محفوظ ہو جاتا ہے اورتوحید کے اس مقام کو پالیتا ہے۔جس پر صحابہؓ کرام کھڑے تھے۔آپ نے اس سب مذکورہ بالا خیالات کو بدلائل غلط ثابت کیا اور بتا یا کہ اللہ ایک ہے اس کے سوا کسی مردے سے مرادیں مانگنی یا قبروں پر نیازیں چڑھا نی یا کسی کو سجدہ کرنا خواہ زندہ ہو یا مردہ یا کسی کو اللہ کی قدرت کا مالک جاننا۔یا عالم الغیب سمجھنا خواہ نبی ہو یا غیر نبی ، یا اللہ تعالیٰٰ کے سواکسی کے نام پر جانور ذبح کرنا یا کوئی اور چیز اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے صدقہ کرنی یا کسی کی نسبت یہ یقین کرنا کہ وہ جو کچھ چاہے اللہ تعالیٰ سے منوا لے شرک ہے اس سے مومن کو پرہیز کرنا چاہئے۔اسی طرح آ پ نے یہ ثابت کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام دیگر انبیاء کی طرح فوت ہو چکے ہیں اور زیر زمین مدفون ہیں۔وہ روحانی مردوں کو زندہ کر تے تھے اور جس طرح نسان پیدا کر سکتا ہے پیدا کرتے تھے۔بے جان کو جان دینے یا مردے کو زندہ کر نے کی ان میں طاقت نہ تھی۔نہ بلا اذن اللہ اور نہ باذن اللہ۔کیونکہ اللہ تعالیٰٰ اپنی صفات مخصوصہ کسی بندہ کو نہیں دیا کرتا اور اس کا کلام ان صفات کے مسیحؑ یا اور کسی آدمی میں پائے جانے کے صریح خلاف ہے اور جس قدر لوگ شرک پھیلاتے ہیں۔وہ اسی قسم کی باتیں بنایا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰٰ نے اپنی طاقتیں فلاح شخص کو دیدی ہیں۔یہ کوئی بھی نہیں کہتا کہ اس کا پیش کردہ معبود اخدا تعالیٰ سے آزاد ہو کر دنیا پر حکومت کرتاہے۔اس مطابق قرآن اور مطابق عقل تعلیم سے آپ نے شرک کی ظلمت کو دور کیا اور مسلمانوں کو وہ سیدھا راستہ دکھا یا جس کو ایک عرصہ سے چھوڑ چکے تھے اور