انوارالعلوم (جلد 7) — Page 422
۴۲۲ دعوۃالامیر بول اٹھے گاکہ میرا کام ختم ہو گیا ، آگے پڑھنا فضول ہے، مسیح موعود یا تو اسی زمانے میں * * میں اس جگہ ایک اعتراض کا ذکر کر دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں جسے مخالف اپنے زعم میں ایک زبردست اعتراض سمجھتاہے اور وہ یہ ہے کہ مسیح موعود کی آمد سے پہلے دجال کی آمد کی خبر دی گئی ہے وہ چونکہ اب تک نہیں آیا۔اس لئے مسیح موعود نہیں آسکتا۔اگر دجال کی خبر ایک پیشگوئی نہ ہوتی تو بے اعتراض کو حقیقت بھی رکھتا لیکن یہ دیکھتے ہوئے کہ دجال کی آمد بطور پیشگوئی ہے اور پیشگوئیاں تعبیرطلب ہوتی ہیں اس اعتراض کی کچھ بھی حقیقت باقی نہیں رہتی۔ایک مسلمان قرآن کریم میں والشيش والم تقم بتشجيث تها۔پڑھتے ہوئے اور تقاری في المنام وبلاگ کی تلاوت کرتے ہوئے پھر ایک غیر معمولی قسم کے دجال کی تلاش میں انکار ہے تو اس پر ضرور افسوس ہے۔افسوس ہے کہ دجال کی پیشگوئی کو سمجھنے کیلئے دوسری احادیث اور سنت اللہ پر بالکل غور نہیں کیا گیا جبکہ یہ بات احادیث سے ثابت ہے کہ مسیح موعود کی آمد سے پہلے دجال کا خروج ہو گا اور یہ بھی کہ اس وقت مسیحیت کا بھی سخت زور ہو گا تو کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ دجال سے مراد مسیحیت ہی ہے جو کہ ایک ہی وقت میں دجال اور مسیحیت کس طرح دنیا پرغالب آسکتے ہیں دونوں کا ایک ہی وقت دنیاپر غلبہ بتاتا ہے کہ درحقیقت ایک ہی چیزکے دو نام ہیں۔ایک اور بات سے بھی معلوم ہواہے کہ دجال اور مسیحی فتنے ایک ہی شے ہے اور وہ یہ کہ رسول کریم ﷺنے دجال کے فتنے سے بچنے کااعلان فواتح سوره کہف پڑھنابتایا ہے اور سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات میں مسیحیت کا رد ہے چنانچہ فرماتا ہے و ینذر الذین قالوا اتخذ اللہ ولدا یعنی اللہ تعالیٰ ٰنے یہ کتاب اس لئے نازل کی ہے تاکہ اس کے ذریعے ان لوگوں کو ڈرایا جائے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰٰ نے ایک بیٹابنالیا۔پس ثابت ہوا کہ دجال کافتنہ اور مسیحی فتنہ ایک ہی شئے ہے کیونکہ علاج بیماری کے مطابق ہوتا ہے اگر دجالی فتنہ مسیحی فتنے سے علیحدہ ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ رسول کریم ﷺ جیساحکیم انسان اس سے بچنے کے لئے ان آیات کا حکم دیتا جن میں دجال کا ذکر تک نہیں ہاں مسیحیت کارد بیان کیاگیا ہے آپ کان آیات کو دجال کے فتنے سے بچنے کیلئے تلاوت کرنے ارشاد فرمایا ہے کہ آپ ؐکے نزدیک دجال سے مراد مسیحیت کی اشاعت کرنے والے لوگ تھے۔در حقیقت دجال کے پہنچاننے میں لوگوں کو سب سے بڑی ٹھوکریہ لگی ہے کہ وہ اسے ایک آدمی