انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 413

۴۱۳ دعوۃالامیر وقت ایسے سامان نکل آویں گے کہ لوگ پرانی سواریوں کو چھوڑ دیں گے اور نئی سواریوں پر چڑھیں گے خشکی اور پانی پر نئی قسم کی سواریاں چلیں گی، چنانچہ آپ فرماتے ہیں لَیُتْرَکَنَّ الْقِلاَسُ فَلاَ یُسْعٰی عَلَیْھَا اس زمانے میں سواری کی اونٹنیاں ترک کر دی جائیں گی اور لوگ ان کی طرف توجہ نہیں کریں گے، چنانچہ اس وقت یہی ہو رہا ہے، اکثر ممالک میں ریل کی سواری کی وجہ سے قدیم سواریاں بیکار ہوتی جاتی ہیں۔پہلے خالی ریل تھی تو دوسری سڑکوں پر سفر کرنے کے لئے پھر بھی لوگ اونٹ وغیرہ کے محتاج ہوتے تھے، لیکن جب سے موٹر نکل آئی ہے اس وقت سے تو اس قدر ضرورت بھی گھوڑوں وغیرہ کی نہیں رہی اور جُوں جوں ان سواریوں کی ترقی ہوگی پرانے سواری کے جانور متروک ہوتے چلے جائیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زمانے کے متعلق یہ خبر بھی دی تھی کہ اس وقت ریلوں کے علاوہ دُخانی جہاز بھی نکل آئیں گے۔جیسا کہ آپ فرماتے ہیں۔دجال کا گدھا پانی پر بھی چلے گا اور جب وہ چلیگا تو اس کے آگے اور پیچھے بادل ہوگا)اور اس سے مراد آپ کی ریل اور دخانی جہاز ہی ہیں۔کیونکہ یہی گدھا ہے جو خشکی اور پانی پر چلتا ہے اور اس سے کلیسیاء نے جسقدر کام لیا ہے اور کسی قوم نے نہیں لیا۔اس کے ذریعہ پادری انجیلیں بغل میںدبا کر دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچ گئے اور سارے جہان کو اپنے دجل کے جال میں پھانس لیا ہے اور ریل اور جہاز کے کبھی آگے اور کبھی پیچھے دھوئیں کا بادل ہوتا ہے جو کبھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑتا اور ان دونوں سواریوں کی خوراک بھی پتھر ہے (یعنی پتھر کا کوئلہ) جو خوراک کہ دجّال کے گدھے کی حدیثوں میں بیان ہوئی ہے۔ان سواریوں نے تعلقات اقوام کی نوعیت ہی بالکل بدل دی ہے۔مالی حالت:۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کے زمانے کی مالی حالت کا بھی نقشہ کھینچ کر بتایا ہے، حذیفہ ابن الیمان ؓ سے ابو نعیم نے حلیہ میں روایت کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ ہے کہ اس وقت سونا زیادہ ہو جائے گا اورچاندی لوگوں سے مطلوب ہو جائے گی۔یہ حالت بھی اب پیدا ہے سونے کی وہ کثرت ہوگئی ہے کہ اس کا دسواں حصہ بھی پہلے نہ تھی۔سینکڑوں سونے اور چاندی کی نئی دکانیں نکل آئی ہیں اور پھر سونے اورچاندی کے نکالنے کے جدید ذریعے معلوم کئے گئے ہیں جن کی وجہ سے دنیا میں سونے کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی ہے۔اگر صرف انگلستان کا ہی سونا لیا جائے تو شاید