انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 409

۴۰۹ دعوۃالامیر محدود تھا اور کپڑے بھی ایسے باریک تیار ہونے لگ گئے ہیں کہ ان کا لباس پہننے سے ایک خیالی زینت تو شاید پیدا ہو جاتی ہوگی مگر پردہ یقینا نہیں ہوتا اور اکثر حصہ دنیا کا ان لباسوں کا شیدا ہو رہا ہے اور اسے عورتوں کے لئے زینت خیال کر رہا ہے دوسری صورت یہ ہے کہ اہل یورپ اور امریکہ کی عورتوں کے لباس کا طریق ایسا ہے کہ ان کے بعض قابل ستر حصے ننگے رہتے ہیں، مثلاً عام طور پر اپنی چھاتیاں ننگی رکھتیں ہیں، کہنیوں تک باہیں ننگی رکھتی ہیں۔پس باوجود لباس کے وہ ننگی ہوتی ہیں۔غرض دو طرح اس علامت کا ظہور ہو رہا ہے۔مسلمانوں میں باریک کپڑے کے استعمال سے اور مسیحیوں میں سینہ اور سر اور بازوؤں کے ننگے رکھنے سے۔ایک علامت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانے کی جو مسیح موعود کے ظہور کا زمانہ ہے ، یہ بیان فرمائی ہے کہ عورتیں اس وقت اونٹ کے کوہان کی طرح سر کے بالوں کو رکھیں گی چنانچہ یورپ کی عورتوں کا یہی طریق ہے۔وہ سر کو گوندھنا نا پسند کرتی ہیں اور بال پھُلا کر اس طرح رکھتیں ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا سر پر کچھ اور چیز رکھی ہے دوسری اقوام بھی ان کے اقتدا ر سے متاثر ہو کر ان کی نقل کر رہی ہیں اور جس طرح لوگ ان کے باقی اقوال و افعال کو وحی آسمانی سے زیادہ قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اس امر میں بھی ان کی اتباع میں تہذیب کی ترقی دیکھتے ہیں۔ایک علامت اس زمانے کی حضرت ابن عباسؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت کی ہے کہ اسوقت عورت اپنے خاوند کے ساتھ مل کر تجارت کرے گی یہ علامت بھی ظاہر ہو چکی ہے۔بلکہ اس کا اس قدر زور ہے کہ عورتوں کے بغیر تجارت کا میاب ہی نہیں سمجھی جاتی اور اس سے بھی زیادہ اب یہ حالت پیدا ہو رہی ہے کہ یورپ کے بعض شہروں میں دُوکانوں پر بعض خوبصورت عورتیں صرف اس غرض سے رکھی جاتی ہیں کہ وہ گاہکوں سے مل کر ان کے دل لُبھانے کی کوشش کیا کریں تاوہ ضرور سودا وہیں سے خرید یں اور خالی نہ لوٹ جاویں۔ایک علامت اس زمانے کے تمدن کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اس وقت عورتیں اس قدر آزاد ہوں گی کہ وہ مردوں کا لباس پہنیں گی اور گھوڑوں پر سوار ہوں گی، بلکہ مردوں پرحکمران ہوں گی تمد ن موجود ہ میں یہ تغیر بھی پیدا ہو چکا ہے اور امریکہ اور دیگر مسیحی ممالک میں اور ان کی دیکھادیکھی دوسرے مذاہب کے پیروؤں میں بھی عورتوں کی آزادی کا ایک غلط مفہوم لیا جانے لگا ہے کہ سُنکر حیرت ہوتی ہے اور ان خیالات