انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 407

۴۰۷ دعوۃالامیر ہتک خیال کرتے ہیں اور اس کی جگہ آداب اور تسلیم کہتے ہیں ، بلکہ ہندوؤں کی نقل میں بندگی تک کہہ دیتے ہیں جس کے یہ معنے ہیں کہ میں آپکے سامنے اپنی عبودیت کا اظہار کرتا ہوں اور یہ الفاظ اس لفظ کی جگہ استعمال کرنے جس کے معنے سلامتی اور حفاظت کے ہیں درحقیقت ملاعنہ ہی ہے۔کیونکہ جب کوئی شخص شرک کے کلمات کہتا ہے ، یا خدا کے لئے جس فرماں برداری کا اظہار مخصوص ہے اس کا اظہار بندوں کے لئے کرتا ہے وہ خدا کی لعنت ایک دوسرے پر ڈالتا ہے۔لفظ آداب جس کا مسلمانوں میں رواج زیادہ ہے اس کا درحقیقت یہی مطلب ہے کہ ہم بندگی اور تسلیم کہتے ہیں اور یہ لفظ اس لئے اختیار کر لیا گیا ہے تا ایسے مشرکانہ الفاظ باربار استعمال کرنے سے دل میں جو ملامت پیدا ہوتی ہے اس کے اثر سے محفوظ ہو جائیں۔ایک تمدّنی تغیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس وقت مسلمانوں میں عزت بوجہ دین کے نہ ہوگی بلکہ بوجہ مال اور سیاسی اعمال وغیرہ کے ہوگی،ابن مردویہ ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اشراطِ ساعت میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس وقت صاحب مال کی تعظیم ہوگی۔یہ حالت بھی اب پیدا ہے وہ قدیم دستور جو خاندانی وجاہت کو سب بواعثِ عزت پر مقدم کئے ہوئے تھا، اب بالکل مٹ گیا ہے اور عزت کا ایک ہی معیار ہے کہ انسان صاحب مال ہو، پہلے مالدار اور دولتمند لوگ علماء کی مجالس میں حاضر ہوتے تھے اور اب علماء اس امر میں فخر محسوس کرتے ہیں کہ انہیں کسی امیر کی دوستی کا فخر حاصل ہے۔یایوں کہئے کہ اس کی ڈیوڑھی پر جُبّہ سائی کی عزت نصیب ہے۔اسی طرح حذیفۃ ابن الیمان سے روایت ہے کہ ایک زمانہ مسلمانوں پر آنے والا ہے کہ ایک شخص کی تعریف کی جائے گی کہ مَااَجْلَدَہٗ وَاَظْرَفَہٗ وَمَا اَعْقَلَہٗ وَمَا فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ مِنْ ااِیْمَانٍ یعنی کہا جائے گ کہ فلاں شخص کیا ہی بہادرہے۔کیا ہی خوش طبع اور نیک اخلاق ہے اور کیا ہی عقلمند ہے حالانکہ اس شخص کے دل میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان نہ ہوگا۔یہ حالت بھی اس وقت پیدا ہے۔کوئی شخص خواہ کیسا ہی بے دین ہو مسلمانوں کے حقوق کا نام لے کر کھڑا ہوجائے۔جھٹ مسلمانوں کا لیڈر بن جائے گا کوئی نہیں پوچھے گا کہ یہ شخص اسلام پر تو قائم نہیں، اسلام کا لیڈر اسے اللہ تعالیٰ نے کیونکر بنا دیا اتنا ہی کافی سمجھا جائے گا کہ یہ عمدہ لیکچرار ہے یا خوب دانائی سے اپنے حریف کا مقابلہ کر سکتا ہے یا سیاسی ضرورت کے پورا کرنے کے لئے اپنی جان دینے کو تیار ہے۔