انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 404

۴۰۴ دعوۃالامیر زندگی کے شعبے میں جوئے کا کسی نہ کسی صورت میں دخل ہے۔معمولی طریق جوئے کا تو مجالس طعام کے بعد کا ایک معمولی مشغلہ ہےہی لیکن اس کے سوا بھی لاٹریوں کی وہ کثرت ہے کہ یوں کہنا چاہئے کہ تجارت کا بھی ایک چوتھا ئی حصہ جوئے کی نذر ہو رہا ہے۔ادنیٰ سے لے کر اعلیٰ تک سب لوگ جوا کھیلتے ہیں اور کبھی کبھی نہیں قریباً روزانہ اور جؤا کی کلبیں شاید سب کلبوں سے زیادہ امیر ہیں۔اٹلی کی کلبمانٹی کارلو میں جو امراء کے جوئے کا مقام ہے،بعض اوقات ایک ایک دن میں کروڑوں روپیہ بعض ہاتھوں سے نکل کر جوئے کے ذریعہ سے بعض دوسرے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے ، غرض اس قدر کثرت جوئے کی ہے کہ یہ کہنا نادرست نہ ہوگا کہ تمدن جدید میں سے جوئے کو نکال کر اس قدر عظیم الشان خلا پیدا ہو جاتا ہے کہ اسے کسی اور چیز سے پُرنہیں کیا جا سکتا۔بِلا خوف انکار و ردّ کہا جا سکتا ہے کہ پہلے زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی لے لیا جائے اس کی ایک سال کی قمار بازی اس زمانے کی ایک دن کی قمار بازی سے بھی ہزاروں حصہ کم رہے گی، لائف انشورنش ، فائر انشورنس ،تھفٹ انشورنس بیسیوں قسم کے بیمے ہی ہیں جن کے بغیر آج کل لوگوں کا کام نہیں چل سکتا اور جن کے نام سے بھی پہلے لوگ ناواقف تھے۔ایک تغیّر اخلاقی حالت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا تھا کہ اس وقت نفسِ زکیہ مارا جائے گالوگ اس کی مختلف تاویلیں کرتے ہیں۔مگر بات صاف ہے ، اس کے یہ معنی ہیں کہ اس وقت پاک نفس انسان کا تلاش کرنا نا ممکن ہو جائے گا۔اب اس امر کو دیکھ لیجئے۔مسیح موعود ؑ کے اثر کو الگ کر کے کُل دنیا پر نظر ڈال جائیں نفسِ زکیہ کہیں نہ ملے گا۔یا تو مسلمانوں میں ایک ایک وقت میں لاکھوں باخدا انسان ہوتے تھے یا اس ضرورت و مصیبت کے وقت ایک اہل اللہ کا ملنا نا ممکن ہے۔بیشک بڑے بڑے سجادہ نشین اور علماء اور مشائخ اور متصوف موجود ہیں جن کے ہزاروں لاکھوں مرید ہیں ،لیکن نفس زکیہ کوئی نہیں، ان میں سے ایک کا بھی خدا تعالیٰ سے تعلق نہیں۔اپنی طرف سے ورد اور وظائف کرنے تو پاکیزگی کی علامت نہیں ہیں۔پاکیزگی کی تو یہ علا مت ہے کہ ایسے لوگ خدا تعالیٰ کی محبت کو جذب کر لیں اور اللہ تعالیٰٰ ان کے لئے اپنی محبت کا اظہار کرے اور اپنی غیرت کو ان کے لئے جوش میں لائے اور ان کی نیتوں اور ارادوں کو پورا کرے اور اپنے کلام کے اسرار ان پر کھولے اور عرفان کا دریا ان کے سینے میں بہادے اور وہ مصائب اسلام کے دور کرنے والے اور مسلمانوں کے سچے امراض دور کرنے