انوارالعلوم (جلد 7) — Page 368
۳۶۸ صلحاء کا بھی ذکر ہے اور اگر مع کی وجہ سے اس آیت کے وہ معنی ہیں جو یہ لوگ کرتے ہیں تو پھر ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑیگا کہ اس امت میں کوئی صدیق بھی نہیں ہو گا بلکہ صرف بعض افراد صدیقوں کے ساتھ رکھے جائیں گے اور شہید بھی کوئی نہیں ہوگا، صرف بعض لوگ شہداء کے ساتھ رکھے جائیں گے اور صالح بھی کوئی نہیں ہوگا صرف کچھ لوگ صلحاء کے ساتھ رکھے جائیں گے یادوسرے الفاظ میں یہ کہ اس امت کے تمام افراد نیکی اور تقویٰ کے تمام مدارج سے محروم ہوں گے صر ف انعام میں ان لوگوں کے ساتھ شامل کر دئیے جائیں گے جو پہلی امتوں میں سے ان مدارج پر پہنچے ہیں۔لیکن کیا کوئی مسلمان بھی اس قسم کا خیال دل میں لاسکتا ہے۔اس سے زیادہ اسلام اور قرآن اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کیا ہوگی کہ امت محمدیہ میں سے نیک لوگ بھی نہ ہوں بلکہ صرف چند آدمی نیک لوگوں کے ساتھ شامل کر کے رکھ دئیے جائیں۔غرض اگر مَعَ کے لفظ پر زور دے کر نبوت کا سلسلہ بند کیا جائے گا تو پھر اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کے لئے صدیقیت اور شہادت اور صالحیت کا دروازہ بھی بند کرنا پڑے گا۔اصل بات یہ ہے کہ مَعَ کے معنی یہی نہیں ہوتے کہ ایک جگہ یا ایک زمانے میں دو ۲ چیزوں کا اشتراک ہے بلکہ کبھی مَعَ درجہ میں اشتراک کے لئے بھی آتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ،اِنَّ الْمُنَافِقِيْنَ فِیْ الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَنْ تَجِدَ لَھُمْ نَصِيْرًا oاِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَاعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَاَخْلَصُوْا دِيْنَھُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰٓۗئِکَ مَعَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ اَجْرًا عَظِيْمًا o(النسآء ۱۴۷-۱۴۶)یعنی تحقیق منافق دوزخ کے نچلے طبقے میں ہوں گے اور تو ان کاکسی کو مددگار نہیں پائے گا مگر ان میں سے وہ مستثنیٰ ہیں جنہوں نے تو بہ کر لی اور اصلاح کرلی اور اللہ تعالیٰ کو خوب مضبوط پکڑ لیا اور اپنے دین کو محض اللہ ہی کے لئے کر دیا اور عمل صالح کرنے والوں اور اللہ تعالیٰٰ ہی کے ہو کےرہنے والوں اور اطاعت کو خاص کر لینے والوں کی نسبت مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔پس اگر مَعَ کے معنی اس جگہ ساتھ کے لئے جائیں تو اسکے یہ معنی ہوں گے کہ باوجود اِن سب باتوں کے وہ مومن نہیں بنیں گے بلکہ صرف مومنوں کے ساتھ رکھے جائیں گے اور یہ بات بالبداہت باطل ہے۔پس مَعَ کے معنی کبھی درجہ کی شراکت کے بھی ہوتے ہیں اور انہیں معنوں میں اُوْلٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللہ عَلَیْھِمْ کی آیت میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔قرآن کریم کے اور بھی بہت سے مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نبوت کا دروازہ اس