انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 315

۳۱۵ ہے ہندووں سے چھوت چھات ان میں سے ایک چھوت چھات بھی ہے اس سے ہندووں نے علاقہ ارتداد میں بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ہندو ملکانوں سے کہتے دیکھو مسلمان ہمارے ہاتھ کا کھاپی لیتے ہیں مگر ہم ان کے ہاتھ کا نہیں کھاتے اس لئے ثابت ہوا کہ یہ لوگ ہم سے ذلیل ہیں اور اپنے آپ کو ذلیل سمجھتے ہیں۔اس پر کئی گاؤں والوں نے میں خطوط لکھے کہ اگر مسلمان اپنے آپ کو ذلیل نہیں سمجھتے تو وہ چھوت چھات کردیں۔آخر ہم نے یہ حکم دیدیا۔میں مقاطعہ اور بائیکاٹ کو ناپسند کرتا ہوں مگر ہندو جو ہم سے چھوت چھات کر رہے نہیں کیا وہ ہمیں بائیکاٹ کر رہے ہیں؟ پھر وہ کہتے ہیں چھوت چھات کی تحریک کرنا فساد پھیلانا ہے مگر کیا ہندو فساد کے لئے ہم سے چھوت چھات کرتے ہیں۔اگر ہندووں کے چھوت چھات کرنے کے باو جود کہا جاتا ہے کہ ہندو مسلمانوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے آپس میں بھائی بھائی ہیں ایک مکان کی دیواریں ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ اگر مسلمان بھی چھوت چھات کریں تو یہ لڑائی کا موجب بن جاتی ہے؟ پس یہ بالکل غلط ہے کہ چھوت چھات کرنا فساد کا باعث ہے بلکہ یہ خود حفاظتی کے لئے ضروری ہے۔دیگر تجاویز اسی طرح مسلمان صنعت و حرفت کی طرف توجہ کریں۔ڈاکٹری اور وکالت و غیره کے پیشوں میں مسلمانوں کی کافی تعداد کو اسی طرح بینکوں میں مسلمان پیچھے ہیں ان میں ترقی کرنی چاہئے۔میں سودی لین دین کے خلاف ہوں کیونکہ اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا مگر میں نے غور کیا ہے کہ اگر قوم تیار ہو تو سود کے بغیر بینک چل سکتا ہے۔اسی طرح ہندوستان کی تجارت ایکسپورٹ اور امپورٹ جو کلی طور پر ہندوؤں کے ہاتھ میں ہے اس شعبہ کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔علاوہ ازیں کمیشن ایجنسیوں میں بھی مسلمان پیچھے ہیں بلکہ صفر کے برابر ہیں۔ان کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔پس اگر مسلمان گھٹنوں کے بل گر کر معافی مانگنا اور ذلیل ہو کر زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں تو اور بات ہے ورنہ اگر چاہتے ہیں کہ عزت و آبرو کی زندگی بسر کریں تو ان کمیوں کو پورا کریں۔پہلے مسلمان آپس میں اتحاد کریں تیسری بات یہ ہے کہ مسلمان سیاسی اور مذہبی اختلافات کو نظرانداز کر کے آپس میں اتحاد واتفاق پیدا کریں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سمجھ لیں کہ دنیا کے سارے مسلمان ایک ہیں اور سب کا