انوارالعلوم (جلد 7) — Page 277
۲۷۷ ہے اور وہ انسانیت سے خارج ہو کر درندہ بن جاتا ہے پس ایسا انسان بھی جس کے سینے سے ایمان نکل جاتا ہے اور لالچ اور حرص کے سامان اس کو اپنی طرف بلا رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف وہ سامان بھی نہ ہوں تو وہ اس وقت تک واپس نہیں آسکتا جب تک یا تو اس کی طرف سے بہترلالچ اور طمع کے سامان اس کے لئے نہ مہیا کئے جائیں اور یا اس کے اندر ایمان نہ پیدا کردیا جائے۔بہرحال ملکانے ضرور اپنے پہلے دین کو برا سمجھ کر چھوڑتے ہیں یاحرص اور لالچ کی وجہ سے چھوڑتے تھے دونوں صورتوں میں ان کا فور اً لوٹنا ناممکن تھا اس لئے جن لوگوں نے ان کے فوراً لوٹنے کی امیدیں لگائیں ان کی امیدیں چونکہ طبعی تقاضا کے خلاف تھیں اس لئے پوری نہ ہوئیں۔پہلا وفد جس وقت گیا اس وقت مشکلات ہی مشکلات تھیں۔پھر دوسرا وفد روانہ ہوا اس وقت بھی مشکلات تھیں گو ان لوگوں سے کچھ کچھ تعلقات پیدا ہو گئے تھے اور وہ سمجھنے لگ گئے تھے کہ یہ لوگ ہمیں چھوڑ کر نہیں چلے جائیں گے جس طرح اور مولوی آتے اور چکر لگا کر چلے جاتے تھے اور یہی بات ان کو مرتد کررہی تھی۔وہ کہتے تھے کہ جب ہمیں کوئی دین نہیں سکھاتا اور دنیا ہمارے پاس ہے نہیں اور ہندوؤں میں ملتی ہے تو ہم کیوں نہ ہندووں میں جاملیں۔ہمارے مبلغوں نے بتایا کہ کئی لوگ مرتد ہوئے مگر روتے روتے۔ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا دین تو اسلام ہی سچاہے مگر ہم کو کسی نے نہیں سکھایا اور دنیا میں ہندوؤں میں ملتی ہے اس سے کیوں روکتے ہو یہ تو لے لینے دو۔گویا وہ اپنے آپ کو مجبوری میں پاتے تھے اس لئے کہ دین کا تو ہمارے پاس کچھ ہے ہی نہیں اور جو چیز ملتی ہے اس سے روکا جاتا ہے۔مگر جب ہمارے آدمی گئے اور ان کو معلوم ہوا کہ اور لوگوں کی طرح یہ یو نہی بھاگ جانے والے نہیں ہیں بلکہ مستقل رہنے والے ہیں تو ان کو خوشبو آئے گی کہ یہ لوگ ضرور دین سکھادیں گے۔جب یہ صورت پیدا ہوئی اور امید کی کہ وہ اسلام قبول کر لیں گے تو اس وقت مولویوں کو فکر پڑی کہ آر یہ ان لوگوں کو لے جاتے تو بھی ہمارے ہاتھ سے گئے تھے اب اگر احمدی لے جائیں گے تو بھی ہمارے ہاتھ سے گئے اس لئے وہ ہماری مخالفت میں کھڑے ہو گئے۔وہ دین کی خاطر تو اس علاقہ میں گئے نہیں تھے اگر دین کی خاطر جاتے تو جب ملکا نے ہمارے ذریعہ اسلام قبول کرنے لگے تھے وہ کہتے اگر یہ احمدیوں کےذریعہ اسلام میں رہتے ہیں تو بھی رہیں۔اور اگر ہمارے ذریعہ اسلام میں واپس آتے ہیں تو بھی آئیں۔مگر چونکہ ان کے مد نظر اسلام نہ تھا اس لئے ہمارے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے وہ دیہہ دیہہ گئے اور جا کر لوگوں کو کہا کہ احمدی تو آریوں سے بھی بدتر ہیں۔ان کی باتیں سننے اور ماننے کی