انوارالعلوم (جلد 7) — Page 271
۲۷۱ حضرت مسیح موعودؑ کی صحبت پائی‘ آپ کے پاس رہے، دین کے لئے قربانیاں کر کے آئے اور سب کچھ چھوڑ کر خدمت کے لئے قادیان میں آبیٹھے ان سےملیں اور تعارف پیدا کریں اور دو تین دن میں واقفیت پیدا کر کے چلے جاتے ہیں۔کیوں؟ اس لئے کہ یہ نیت کر کے آتے ہیں کہ ایسے لوگوں سے واقفیت پیدا کرنی ضروری اور فائدہ مند ہے۔اگر مبلغ بھی اسی طرح نیت کر کے دیہات میں جائیں تو ایک ہفتہ کے اندر اندر واقفیت کیا دوستی بھی پیدا کر سکتے ہیں۔یہ سخت غفلت ہے کہ ایک آدمی جائے اسے ہدایات دے دی جائیں جنہیں وہ لکھ لے یا یاد کرنے مگر وہاں جا کر ان پر عمل نہ کرے۔اگر کوئی شخص وہاں جاتا اور خاموشی سے اپنا وقت گذار کر آجاتا ہے تو اس کے جانے کا کیافائده - پس سب سے ضروری بات یہ ہے کہ جو نصائح دی جائیں( امید ہے آپ لوگوں کو بھی ہدایات کی ایک ایک کاپی دے دی گئی ہوگی) ان پر پورا پورا عمل کرو۔ہرایک شخص میں یہ اہلیت نہیں ہوتی کہ وہ سمجھ سکے کہ اسے کیا کام کرتا ہے اور کس طرح کرنا ہے یہ کام کروانے والوں کا فرض ہے کہ اسے بتائیں کہ اس طرح کام کرنا ہے اور کام کرنے والے کا یہ فرض ہے کہ جو کچھ بتایا جائے اسے سمجھے اور اس کے مطابق کام کرے۔پس سب سے بڑی نصیحت یہی ہے کہ جو ہد ایات تمہیں دی گئی ہیں ان پر عمل کرو۔اس کے بعد میں جانے والوں کو اور دوسروں کو جو بیٹھے ہیں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ دین کا معاملہ ایسا ہم معاملہ ہے کہ اس کے لئے مومن کسی قسم کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتا -دیکھو جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا اور آج بھی خطبہ میں بیان کیا ہے علاقہ ارتداد میں ملکانوں کا سوال نہیں بلکہ اسلام کا سوال ہے۔جس قدر مرتد ہو چکے ہیں ان سے زیادہ تعداد میں مسلمان عیسائی ہو کر گمراہ ہو چکے ہیں مگر اس پر اس قدر حیرت اور استعجاب نہیں ہوا۔وجہ یہ ہے کہ وہ افراد عیسائی ہوئے ہیں اور یہ ایک قوم کی قوم مرتدہورہی ہے جس سے یدخلون في دين الله افواجا کی بجائے یخرجون من دين الله افواجا کا نظارہ ہے۔اور اس طرح وہ رعب جس کے متعلق رسول کریم اﷺنے فرمايا تبال کہ مجھے رعب سے مدد دی گئی ہے اس کے مٹنے کا ڈر ہے رسول کریم ﷺکے رعب سے مراد آپ کے مذہب اور آپ کی امت کا رعب ہے نہ یہ کہ آپؐ کی ذات کارعب۔اگر یہ ہوتا تو آپ کا ذاتی رعب ہو جاتا اور ذاتی رعب تو اور لوگوں کو بھی حاصل تھا کیا سکند ر کا رعب اپنے زمانہ میںنہ تھا اور کیا اب انگریزوں کا رعب نہیں ہے۔تو رسول کریم ﷺکے رعب سے مراد یہ تھی کہ آپ کو ایسارعب دیا گیا جو آپ کی وفات کے بعد قائم رہے گا جو یہی ہے کہ آپ کے مذہب اور