انوارالعلوم (جلد 7) — Page 222
۲۲۲ اور لیڈری کی فکر ہے۔ہم بھی ان میں سے ہیں ان کے بھائی بند ہیں رشتہ دار ہیں۔ان کے دلوں میں یہ بات نہیں جو تمہارے دلوں میں ہے۔ہم اللہ کے فضل ہیں جنہوں نے ہمیں کو نواز دیا ورنہ ہم بھی وہی ہیں جو دو ہیں۔پس خدا کے حضور دعائیں کرتے ہوئے اخلا ص کے ساتھ اس کام کے لئے جاؤ یہ موقعے ہر روز نہیں مل گئے۔میں نے پہلے بھی کہا ہے اب پھرکہتا ہوں کے افسروں کی اطاعت کرنا خواہ کیسے سخت احکام ہوں اور تکلیف ہو- ایک صحابی کو رسول کریم ﷺنے ایک جگہ بھیجا انہوں نے وہاں جا کر کہا کہ میں جو حکم دوں گا وہ کر نا ہو گا۔جہاں جہاں جوافسر ہوں ان کی اطاعت ضروری ہے۔بھائی جی حضرت مولوی شیخ عبدالرحیم صاحب) راستہ میں امیر ہیں۔راستہ میں ہر ایک کام ان کے حکم کے ماتحت کرو۔وہاں چوہدری صاحب ہیں۔اور پھر ضرورت کے مطابق جس کو وہ مناسب سمجھیں گے افسر اور ماتحت بنائیں گے۔تمہارا فرض ہو گا ہر ایک افسرکی اطاعت کرو۔اس افسرکے حکم کو میرا حکم سمجھو اور میرا عحکم خدا کا حکم جو کیونکہ میں جو کچھ کہتا ہوں خدا کے دین کی خدمت کے لئے کہتا ہوں اپنے نفس کیلئے نہیں کہتا۔پس افسروں کی پوری اطاعت کرو۔جوشوں کو قابو میں رکھو۔اگر تمہارے راستہ میں تکالیف آئیں تو نہ گھبرؤد۔تمہیں مخالف ماریں یا جو چاہیں تکلیف پر تکلیف دیں تم مبر سے کام لو کہ اسی میں تمہاری فتح ہے دشمن کی سختی کا نرمی سے جواب دو - ہمارے دل میں قانون کا ادب ہے اگر وہ لوگ فساد کریں گے تو ممکن ہے حکام کو دخل دینا پڑے۔اور پھر ہمارے لئے دقّت ہو۔ان لوگوں کیلئے دقّت نہیں کیونکہ وہ وہاں کے رہنے والے ہیں ان کی آبادی وہاں ۸۰ فیصدی ہے۔پس اگر وہاں فتنہ فساد ہو تو آریوں کے حق میں مفید ہو گا ان کے آدمی وہیں کے ہیں وہیں رہیں گے اس لئے تم مار یں کھاؤ صبر کرو۔تم ماریں خدا کیلئے کھاؤ اور جواب نہ دو پھر خدا تمہاری مدد کرے گا۔یہ چیز ہے جس سے فتح ہوتی ہے۔روس کے ایک بادشاہ نے دربان کو حکم دیا کہ کسی کو اندر نہ آنے دو۔ایک امیر جو بہت بڑا عہدہ رکھتا تھا آیا اور اس نے اندر جانا چاہا دربان نے اسے روکا کہ بادشاہ کی طرف سے داخلہ کی ممانعت ہے۔اس نے کہا تم مجھے جانتے ہو میں کون ہوں۔دربان نے جواب دیا ہاں میں جانتا ہوں آپ فلاں ڈیوگ ہیں۔اس نے کہا کہ پھر کیوں روکتے ہو۔اس نے جواب دیا اس لئے کہ بادشاہ کا حکم ہے۔ڈیوک نے اس کو مارنا شروع کیا۔وہ مار کھاتا رہا مار کر کہا ہٹ جاو - وہ ہٹ گیا۔ڈیوک داخل ہونے لگا وہ دروازہ میں کھڑا ہوگیا۔ڈیوک نے پھر مارنا شروع کیا۔غرض تین چار دفعہ ایسا ہوا - بادشاہ نے