انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 208

۲۰۸ مراد ہیں یہ مجھے دیدویعنی غیرمذاہب کے مقابلہ میں نے لکھنے دو۔مجھے خدا نے اسلام کی حفاظت کا طریق سمجھایا ہے میں اس سے کام لوں گا۔اور دوسرے قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاﭤ پیسے لا کر ہمیں دیدو تم لکھنا پڑھنا چھوڑ دو تمهارے مولوی ان لوگوں کو اور خراب کردیں گے۔تم قلمیں روک لو اور زبانیں بند کرلو باقی تمہارے پاس جو پیسے ہیں اگر چاہو تو ان سے مدد کردو۔وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا۔پھریا تو دشمن چڑھتا چلا آرہا تھا اور درمیانی قوم کو کھا رہا تھا۔اس قوم کو درمیانی قرار دینے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہندوؤں کے راستہ میں یہ روک ہے اگریہ ہی نہ رہی تو پھرباقی مسلمانوں کی بھی خیر نہیں۔مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ احمدی اس دشمن کے راستہ میں دیواریں بنائیں گے اس کو مسلمانوں پر غالب ہونے سے روک دیں گے۔پس کا میابی احمدی قوم کو ہی ہوگی۔میرا یہ مطلب نہیں کہ ان آیات میں ملکانہ ترم کاہی ذکر ہے۔سب جگہ ایسی قو میں موجود ہیں کہ وہ لوگ مسلمان کہلاتے ہیں مگر غیروں سے ان کا تعلق ہے ایسی قوموں کو غیر کھانا چاہیں گے۔ان کی حفاظت اگر ہوگی تو حضرت مسیح موعود کی جماعت کے ذریعہ ہی ہوگی۔اوروں کی حفاظت ان کے لئے اور زیادہ مضر ثابت ہوگی۔ان کا کام یہی ہے کہ اپنی قلمیں اس جماعت کے حوالہ کر دیں اور اپنے سکے اس کے آگے ڈال دیں کہ یہی ان کے پاس دینے والی چیزیں ہیں۔ایمان عرفان اور دلا ئل تو ان کے پاس ہیں ہی نہیں اگر دے سکتے ہیں تو روپیہ ہی دے سکتے ہیں۔یہ ایک پیشگوئی ہے جو ان تمام قوموں کے متعلق ہے جن کی حالت ملکانوں جیسی ہے اور اس پیشگوئی میں یہ بھی خوش خبری ہے کہ جلد یا بدیر کامیابی مسیح موعود کی جماعت کو ہی ہوگی۔بعض دفعہ دشمن کو درمیانی خوشی حاصل ہو جاتی ہے مگروہ عارضی ہوتی ہے۔جیسا کہ رسول کریم ﷺ کو جب مکہ سے آنا پڑا۔توکفار بڑے خوش ہوئے ہوں گے کہ ہم غالب آگئے لیکن د راصل رسول کریم کامکہ سے آناہی ان لوگوں کی تباہی اور بربادی کا سامان تھا جس کا انہیں بہت جلد علم ہو گیا۔پس اگر ہمیں درمیان میں مشکلات پیش آئیں اور بظاہر کا میابی دشمن کو نظر آۓ توکوئی گھبرانے کی بات نہیں انجام کار ہماری جماعت کو ہی فتح حاصل ہوگی اور مسلمانوں کو بھی کہنا پڑے گا کہ ہم قلمیں دے دیتے ہیں ہمیں ان دشمنوں سے تم ہی بچاؤ - (الفضل ۲۲۔مارچ ۱۹۲۳ء)