انوارالعلوم (جلد 7) — Page 205
۲۰۵ بیس آدمی جو کنارے پر کھڑے ہیں اس کے بچہ کو بچالیں گے ہرگز نہیں بلکہ اگر ہزار آدمی بھی موجود ہو گا تو بھی وہ پانی میں ہاتھ ڈالے گی اور بچے کو بچانے کی کوشش کرے گی۔تو کام کرنے والے اسی طرح کام کیا کرتے ہیں کہ وہ سمجھتے ہیں ہم نے کام کرنا ہے اور کسی نے نہیں کرنا۔جب یہ ارادہ او ریہ عزم ہو تو پھر کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔پس میں اس چندہ کیلئے تحریک کرتا ہوں جو لوگ توفیق رکھتے ہیں کہ سو روپیہ دے سکیں دیں اس سے زیاده خواہ کوئی لاکھ روپیہ دے دے گو ہماری جماعت میں اتنار و پیہ دینے والا کوئی نہیں۔پس پورے زور اور ساری قوت سے اس بوجھ کو اٹھائیے تب کام ہو گا اور اگر اس وقت تھوڑے لوگ اس بوجھ کو اٹھالیں گے تو دوسرے وقت رو سرے لوگ اٹھاسکیں گے۔پس آپ لوگوں نے پورے زور کے ساتھ اس بوجھ کو اٹھانا ہے اور باہر کے لوگوں کے لئے نمونہ بننا ہے۔اس وقت میں نے جورکوع پڑھا ہے اس کے متعلق اب کچھ بیان کرتا ہوں۔میں عصر کی نماز پڑھ رہا تھا کہ اس وقت معاً میرے دل میں ڈالا گیا کہ ایسے فتنہ کا ذکر قرآن کریم میں ہے اور حضرت مسیح موعودؑ کی کتاب سے بھی اس کا پتہ مل گیا ہے۔اس رکوع (سورہ کہف کا گیارہواں) میں بتایا گیا ہے کہ ذوالقرنین ایک بادشاہ تھا اس کے حالات پیشگوئی کے طور پر بیان کئے گئے ہیں۔براہین احمدیہ حصہ پنجم کے آخری صفحات میں حضرت صاحب نے بیان فرمایا ہے کہ ذوالقرنین سے مراد مسیح موعود ہے جو صدیوں کے سروں کو جوڑے گا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود کے وقت سب صدیاں ملتی ہیں اور حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ ذوالقرنین میں ہوں۔خدا تعالی ٰفرماتا ہے۔وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِؕ تم سے ذوالقرنین کا حال پوچھتے ہیں۔قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًا کہہ دے میں اس کا کچھ حال تاتاہوں۔یعنی یہ کہ مسیح موعودؑ آئے گا۔اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًا \"۔ہم اس کو دنیا میں مبعوث کریں گے۔اور ہر قسم کے سامان اسے دیں گے یعنی وہ مسلمان جن سے تبلیغ میں سہولت ہوگی۔چنانچہ اس زمانہ میں مطیع ،ڈاک خانہ،تار، ریل، اخباریں وغیرہ ایسے ہی سامان ہیں۔فَاَتْبَعَ سَبَبًا - وہ ایک راستہ پر چلے گا۔حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ یہاں تک کہ وہ ایسی جگہ پہنچے گا جہاں دلدل والے چشمہ میں سورج ڈوب رہا ہو گا۔حضرت مسیح موعود براہین احمدیہ حصہ پنجم میں فرماتے ہیں کہ یہ عیسائی لوگوں کی حالت بیان کی گئی