انوارالعلوم (جلد 7) — Page 200
۲۰۰ ہو وہ اب تیار ہو جائے۔اور سمجھ لو کہ اس کام کیلئے کسی بڑے علم کی ضرورت نہیں۔وہاں سے رپورٹیں آئی ہیں کہ ان لوگوں میں بالکل علم نہیں۔مولوی محفوظ الحق صاحب نے لکھا ہے کہ وہ لوگ تو بات بھی نہیں سمجھ سکتے۔وہاں علمی مسائل بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔وہاں تو صاف اور سادہ لفظوں میں باتیں بار بار پیش کرنے کی ضرورت ہے جیسے مسمریزم والے کہتے ہیں کہ سوجا۔سو جا۔تو معمول سو جاتا ہے اسی طرح اگر ان لوگوں کو بار بار حق سنایا جائے تو کیوں ان پر اثر نہ کرے گا۔دیکھو عیسائی مسیح کو خدا کا بیٹا کہتے کہتے سنواہی لیتے ہیں حالانکہ وہ کھاتا پیتاسو تا رہا اوربقول ان کے لوگوں نے اس کو مار بھی دیا۔ایسا انسان کس طرح خدا کا بیٹا ہو سکتا ہے لیکن باوجود اس کے لوگ مان ہی لیتے ہیں۔پس اگر ایسی بے وقوفی کی بات لوگ مان سکتے ہیں کہ مسیح خدا کا بیٹا تھاتو جاہل لوگ جنات کو کیوں نہیں مان سکتے۔اگر ایک بات بارہا رکہنے سے عقلمند ہو کر جہالت کی بات مان لیتے ہیں تو عقل کی بات جاہل انسان سے کیوں نہیں منوائی جاسکتی۔پس ہمیں ایسے آدمی چاہئیں جو محنت اور اخلاص سے کام کر سکیں۔جو یہ اقرار کریں کہ دن رات لوگوں کو سمجھاتے اور دین کی باتیں سناتے رہیں گے۔ایسے لوگ اگر ایک لفظ بھی نہ جانتے ہوں گے تو کامیاب ہوں گے۔پس جو شخص انتظام کی پابندی کر سکتا ہے فرمانبرداری اختیار کر سکتاہے غصہ کو دبا سکتا ہے وہ کام کر سکتا ہے خواہ وہ اپنانام بھی لکھنانہ جانتا اس لئے اپنے آپ کو پیش کرنے میں جلدی کرو۔اب روپیہ کا سوال ہے۔اس کے متعلق بعض لوگوں کے دل میں خیال پیدا ہوا ہے کہ جب آریہ راجپوتوں کو روپیہ دیکر آریہ بنا رہے ہیں اور مسلمان بھی ان کو روپیہ دیکر اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں تو کیا ہمیں بھی اسی کام کیلئے روپیہ جمع کرنا چاہئے۔ہمارے مبلّغ تو اپنے خرچ پر جائیں گے پھرروپیہ کی کیا ضرورت ہے مگر ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ایسی تبلیغ کہ روپیہ دیگر لوگوں کو اپنے اندر داخل کیا جائے میرے نزدیک تبلیغ نہیں بلکہ اپنی ذلت اور شکست کا اقرار کرنا ہے۔ہمیں اس کام کیلئے نہ تو روپیہ کی ضرورت ہے اور نہ اس کیلئے ہم روپیہ صرف کرنا چاہتے ہیں مگر باوجود اس کے دوسروں سے ہمیں کم روپیہ کی ضرورت نہیں بلکہ ان سے زیادہ کی ضرورت ہے۔ان میں بڑے بڑے مالدار ہیں ان میں کروڑپتی بھی ہیں پھر ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔اگر وہ تھوڑا تھوڑا چندہ بھی دیں تو بہت بڑا چندہ جمع کر سکتے ہیں اور آسانی سے دولت جمع کر سکتے ہیں لیکن اس کا استعمال وہ اس طرح کریں گے کہ کچھ آپس میں بانٹ لیں گے اور پھر ان لوگوں میں تقسیم کردیں گے۔پس ان کو روپیہ کی اتنی ضرورت نہیں ہے جتنی ہمیں ہے کیونکہ ان کے اتنے مبلّغ