انوارالعلوم (جلد 7) — Page 183
۱۸۳ ہو گئی تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ کام کرنے کی روح مرگئی ہے اورول اسلام سے بیزار ہو چکے ہیں۔میں نے اپنی سکیم کی تفصیلات کو طے کرنے کے لئے اور وقت کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے چودھری فتح محمد صاحب ایم اے ناظر تالیف و اشاعت کو چھو خود را جپوت ہیں اور کئی سال تک انگلستان میں تبلیغ کا کام کر چکے ہیں اور اس وقت اشاعت اسلام کے صیغہ میں میرے سیکرٹری ہیں۔ان علاقوں کا دورہ کرنے کے لئے بھیجا ہے۔ان کی رپورٹ پر ہم تو انشاء اللہ اپنے رنگ میں کام شروع کردیں گے پھرذمہ داری دوسرے لوگوں پر ہوگی کیونکہ اس کام کو جب تک منظم صورت میں نہ کیا گیا جلدی اور وسیع نتائج پیدانہ ہوں گے سربر آوردہ لوگوں کے لئے پرائیویٹ چھٹی چونکہ اس کام کو جب تک متعلق بعض ا مور ایسے ہیں کہ ان کا عام طور پر شائع کردینا تبلیغ کے راستہ میں روک ہو گا اس لئے میں نے ارادہ کیا ہے کہ ہر جماعت کے سرآور وہ لوگوں میں ایک پرائیویٹ چٹھی کے ذریعہ اس کام کی بعض تفاصیل کو پیش کروں جسے میں انشاء اللہ تعالیٰٰ چند دنوں تک شائع کرنے کے قائل ہو سکوں گا۔یہ چٹھی صرف ایسے لوگوں میں شائع کی جائے گی جو کسی جماعت پر اثر رکھتے ہیں اور جن کی نسبت یہ معلوم ہوا کہ دیانتداری سے اس بوجھ کے اٹھانے میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔ایڈیٹران اخبارات سے درخواست آخر میں میں تمام ایڈیٹران اخبارات سے جن کے پاس یہ اعلان پہنچ درخواست کرتاہوں کہ وہ اس اعلان کو اپنے اخبار میں شائع کردیں تاکہ تمام ان لوگوں کو جو اس کام سے دلچسپی رکھتے ہیں اطلاع ہو اور تاشاید خوابیده دلوں میں کوئی بیداری پیدا ہو۔ورنہ ہم تو حجت پوری کر ہی چکے۔واخر دعونا أن الحمدلله رب العلمين خاکسار میرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ مورخہ ۹-مارچ ۱۹۲۳ء) قاریان دارالامان ضلع گورداسپور (الفضل ۱۲۔مارچ ۱۹۲۳ء)