انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 169

۱۶۹ تحریک شدھی ملکانا بسم الله الرحمن الرحیم نحمده و نصلی علی رسوله الكريم اعلان بابت فتنہ ارتداد ۷۔مارچ عصر کے بعد درس القرآن سے قبل حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے حسب ذیل تقریر فرمائی۔جماعت احمدیہ کا اخلاص و ایثار میں نے پچھلے جمعوں کے خطبات میں اس بات پر خصوصیت سے تقریریں کی ہیں کہ ہماری جماعت کے اخلاص، دینی قربانی اور ایثار کا نمونہ اور کہیں نہیں پایا جاتا اور میں نے امید ظاہر کی تھی اور سچے طور پر ظاہر کی تھی کہ اگر ہماری جماعت کے لوگوں کو اسلام کے لئے جانیں پیش کرنے کی بھی ضرورت پڑے گی تو وہ اس سے دریغ نہ کریں گے۔میری یہ امید بلاوجہ نہ تھی اور نہ بلا ضرورت تھی۔بلا وجہ تو اس لئے نہیں کہ ہماری جماعت کی عورتیں جو گودین کے متعلق اخلاص اور محبت میں بہت بڑھی ہوئی ہیں لیکن علمی لحاظ سے مردوں سے بہت پیچھے ہیں ان کے متعلق خطرہ ہو سکتا تھا کہ شاید ان کے لئے قربانی نہ کر سکیں لیکن جب ان کا موقع آیا تو انہوں نے قربانی اور ایثار کا بے نظیر نمونہ پیش کیا۔راجپوتوں کا ارتداد اور میری امید بلا ضرورت اس لئے نہ تھی کہ ایک بات جس کے تعلق میں کئی دنوں سے سوچ رہا تھا۔ہماری جماعت کے لوگوں کی جانی قربانی کے لئے تیار ہونے سے ہی ہو سکتی تھی۔وہ ضرورت جس پر میں ایک ماہ سے زیادہ عرصہ سے غور کر رہا تھا اور اس کے متعلق سوچ رہا تھا وہ سلسلہ ارتداد ہے جو یو۔پی میں شروع ہو گیا