انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 130

۱۳۰ اس میں بھی چھٹا فرقہ اہل قرآن کا ہے۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول کا کام صرف ڈاکئے کا کام ہے اس کی کیا حقیقت اس لئے وہ حدیث کو رد کردیتے ہیں اور ہر بات قرآن کریم سے نکالتے ہیں اور اس وجہ سے کوئی نماز کی دو رکعت نکالتا ہے کوئی تین۔یہ موٹی موٹی باتیں فرقوں کے متعلق بیان کی ہیں اور اس میں اس پر میں بحث نہیں کروں گا کہ ہر فرقہ کے دلا ئل کس حد تک غلط ہیں یا صحیح ہیں۔ساتواں فرقہ۔حقیقی اسلام احمدیت ہے۔امت کے متعلق کھنے والی یہ باتیں ہیں:۔اول۔حضرت صاحبؑ کا کیا دعویٰ تھا پھر یہ کہ نبوت کا دعویٰ تھا یا نہیں؟ اور یہ بھی کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی آسکتا ہے یا نہیں؟ روم - د عویٰ کے بعد یہ سوال آتا ہے کہ آپ کا دعویٰ مسیح موعود کا تھا۔اس دعویٰ کے ضمن میں یہ بات آئے گی کہ مسیح ابن مريم ؑفوت ہو گیا ہے یا نہیں؟ اگر فوت ہو گیا ہے تو کیا کوئی مسیح امت میں آنے والا ہے؟ اور اگر فوت نہیں ہو اتوکیا وہ مسیح ابن مریمؑ آۓ گا؟ اور اگر وہ آئے تو اس کی آمد کااثر آنحضرت ﷺ کی نبوت پر کیا ہو گا؟ تیسری بات یہ کہ احمدیت کی کیا غرض ہے؟ کیا اس سلسلہ کی ضرورت تھی تو کیا وہ ضرورت احمدیت کے آنے سے پوری ہوگئی؟ پھر حضرت صاحب ؑکے متعلق یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اگر وہ نبی یا رسول تھے تو کیا ان میں وہ باتیں پائی جاتی ہیں جو خدا تعالی ٰکے نبیوں اور رسولوں میں ہوتی ہیں یا یہ کہو کہ جن معیاروں پر نبی یا رسول کی صداقت ثابت ہوتی ہے وہ بھی ان معیاروں پر پورے اترتے ہیں؟ اور یہ بھی کہ وہ معیار کیا ہیں؟ پھرا یک علم ہے پیشگوئی کی حقیقت کے متعلق۔پیشگوئی کیا ہوتی ہے؟ انبیاء علیہم السلام کی پیشگوئیاں کس قسم کی تھیں اور حضرت مسیح موعودؑ کی پیشگوئیاں کسی قسم کی ہیں؟ پھر یہ بات بھی دیکھنی ہوگی کہ حضرت صاحب کی جماعت کا پہلے فرقوں سے کیا تعلق ہے؟ پھرنئے جھگڑوں میں یہ ہے کہ کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد خلافت ہوگی یا خارجیوں کے طریق پر پارلیمنٹ؟ آئند ہ احمدیت کی ترقی کا کیا نظام ہے اور اسی میں افراد کی کی ذمہ داری ہے؟ آٹھواں فرق تصوف کا ہے۔مختلف لوگوں نے اس کے مختلف معنے کئے ہیں۔کسی نے صفائی قلب کے معنے کئے ہیں کسی نے کچھ۔عام طور پر یہ مراد لی جاتی ہے کہ جس سے صفائی قلب پر بحث