انوارالعلوم (جلد 7) — Page 96
۹۶ نجات چوتھا اعتراض یہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جس طرح دنیا میں کوئی بات بلاسبب نہیں اسی طرح کوئی بات بلانتیجہ بھی نہیں۔لیکن اگر ہم یہ کہیں کہ جو شخص کی اہم کام کو ادھورا چھوڑا کر مرجاتا ہے وہ اس لئے مرجاتا ہے کہ خدا نے یونہی چاہاتو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ اس شخص کی زندگی بے نتیجہ رہی اور یہ بات عام قانون قدرت کے خلاف ہے۔پس اس قسم کے حادثات کابھی ایک ہی حل ہے کہ وہ لوگ تناسخ کی وجہ سے ان حالتوں میں مر جاتے ہیں تاکہ دوسری شکل میں اپنی ترقی کو جاری رکھیں۔ان تمام اعتراضات کو پیش کرکے تناسخ کے ماننے والے کہتے ہیں کہ چونکہ دوسری وجوہ تو دلا ئل سے ردہو جاتی ہیں اس لئے تیسری یہی وجہ ماننی پڑے گی کہ انسان کے پچھلے اعمال کے سبب یہ سب اختلاف ہے۔ان کے اس دعو یٰ کو یورپ کے بعض لوگوں کے بیانات سے بھی تقویت مل جاتی ہے جو ان کا نام تجربہ رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم روحوں سے باتیں کر لیتے ہیں اور ان سے سوالات حل کرا لیتے ہیں۔روحوں سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تناسخ درست ہے۔یہ لوگ سپرچولسٹ (SPIRITUALIST) کہلاتے ہیں اور یورپ اور امریکہ میں ان کا آج کل بڑا زور ہے۔ابطال تناسخ یہ خلاصہ ہے قائلین تناسخ کے دلائل کا۔اب میں ان باتوں کے جواب دیتا ہوں-(ا) اس ساری عمارت کی بنیادہی شک پر ہے۔ہر مسئلہ کی بنیاد علم پر ہوتی ہے مگر تناسخ کا مسئلہ ایسا ہے جو شک سے پیدا ہوتا ہے اور اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کوئی شخص رات کو کہیں جارہا ہو ایک اور شخص اسے دیکھے اور کہے کہ چونکہ یہ رات کو گلیوں میں جا رہا ہے اور رات کو گلی میں پھرنے کی کوئی وجہ ہونی چاہئے اس لئے یہ ضرور چور ہے۔مگر یہ خیال اس کا شک ہو گا ممکن ہے کہ وہ چور ہو اور ممکن ہے کہ وہ کسی ضروری کام کے لئے جا رہا ہو۔مثلاً کوئی گھر میں بیمار ہو اور یہ ڈاکٹر کو بلانے جاتا ہو یا ریل کا وقت ہو اور یہ گاڑی میں سوار ہونے جاتا ہو۔یا مثلا ًکوئی شخص ایک وسیع مکان بنانے کے ایک اور شخص آکر دیکھے اور کہے چونکہ یہ بہت بڑا مکان بنا رہا ہے اور اس کے گھر کے آدمی اتنے نہیں ہیں جن کے لئے اتنے وسیع مکان کی ضرورت ہو اور ایسا مکان بنانے کی کوئی وجہ ہونی چاہئے جو یہ ہے کہ یہ شخص منصوبہ باز ہے۔اس جگہ اس کے ساتھی جو اس کے ساتھ سازش میں شریک ہیں جمع ہوا کریں گے اور یہ سمجھ کر اس کو گرفتار کرانے کی کوشش