انوارالعلوم (جلد 7) — Page 79
انوار العلوم - جلدے 49 جائیں ایک بطور حق کے اس میں داخل ہوں گے یہ تو وہ لوگ ہیں کہ جو ہر طرح دنیا میں اللہ تعالٰی کی رضاء کو حاصل کرتے رہے اور ایک وہ لوگ جو بطور رحم اور بخشش کے جنت میں داخل کئے گے اور یہ وہ لوگ ہیں جن کی طرف اشارہ کیا گیا ہے رَحمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيءٍ کی آیت میں ۔ حق سے مراد یہ نہیں کہ حقیقی طور پر مومن کا حق ہو گا بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے اپنے فضل سے مومن کا یہ حق مقرر کر دیا ہے دوسرے معنے اس آیت کے یہ ہیں کہ خدا تعالٰی پہلے یہ فرماتا ہے کہ میں جس کو چاہوں گا عذاب دوں گا۔ اور پھر فرماتا ہے میری رحمت وسیع ہے اور پھر کافروں کو کہتا ہے کہ دیکھو جب میں ہر ایک کو اپنی رحمت دینے کے لئے تیار ہوں تو کیا محمد (ا) کو ہلاک ہونے دوں گا ؟ جب ہلاک ہونے والوں کو بچانے کے لئے تیار ہوں تو اس کو کیوں ہلاک ہونے دوں گا؟ اسی طرح حدیث میں آتا ہے بانی عَلیٰ جَهَنَّمَ زَمَانٌ لَيْسَ فِيْهَا أَحَدٌ وَ نَسِيمُ الصَّبَاءِ تحرك أبوابها ۳۸۔ ترجمہ : ایک زمانہ جنم پر ایسا آئے گا کہ ہوا اس کے دروازے کھٹکھٹائے گی گویا سب لوگ جہنم سے نکل چکے ہوں گے اور اس لئے اس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور عذاب کی جگہ اس کے مقام پر بھی رحمت کی ہوائیں چل پڑیں گی۔ اور وہ مقام عذاب کا نہیں رہے گا۔ اسی طرح حدیث شفاعت میں آتا ہے کہ خدا تعالیٰ شفاعت سے کچھ لوگوں کو نکالے گا۔ آخر خدا اپنی مٹھی ڈالے گا اور جس قدر اس کی مٹھی میں لوگ آئیں گے سب کو نکال لے گا ۳۹ ۔ اور یہ بات ظاہر ہے کہ خدا تعالٰی کی مٹھی سے کوئی چیز باہر نہیں رہ سکتی۔ پھر عقلی دلیل یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات دو قسم کی ہیں۔ ایک غضب والی ۔ دوسری رحمت والی - صفات غصبیہ صرف بندے کے فعل کے جواب میں ظاہر ہوتی ہیں اور صفات رحمت بندے کے فعل کے بغیر بھی ظاہر ہوتی ہیں۔ جیسے خدا تعالیٰ نے انسان کو ناک، کان منہ دیا ہے یہ کسی فعل کے نتیجہ میں نہیں دیا بلکہ اپنی رحمت سے دیا ہے ۔ پس رحمت کی صفت وسیع ہے اور جب کہ یہ صفت اپنے عرض میں اس قدر وسیع ہے ضروری ہے کہ اپنے طول میں بھی وسیع ہو۔ یعنی ایک زمانہ آئے کہ یہ صفات غضبیہ سے آگے نکل جائے اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ آخر سب لوگ معاف کر دیئے جائیں۔ نجات