انوارالعلوم (جلد 7) — Page 77
انوار العلوم - جلدے مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْ دَلِ آتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِيْنَ ۳۔ اس میں اللہ تعالی فرماتا ہے۔ اگر کسی نے ذرہ بدی یا نیکی کی ہوگی تو اس کا محاسبہ کیا جائے گا اب بدی کی وجہ سے جب انسان جہنم میں چلا گیا اور ابد الآباد تک اسی میں رہا تو نیکیوں کا بدلہ کب پائے گا؟ اس لئے ضروری ہے کہ وہ نجات پائے۔ یہاں آریوں سے اسلام کا عجیب مقابلہ پڑتا ہے انہوں نے عجیب عقیدہ بنایا ہے کہ وہ کہتے ہیں پر میشور ہر ایک روح کا ایک گناہ رکھ چھوڑتا ہے اور نجات پہلے دے لیتا ہے پھر اس گناہ کی وجہ سے سزا دیتا ہے ۔ گویا اسلام تو یہ کہتا ہے کہ خدا گناہوں کی سزا پہلے دیتا ہے اور پھر نجات دیتا ہے مگر آریہ کہتے ہیں انعام پہلے دیتا ہے اور عذاب پیچھے تاکہ روح ابدی نجات نہ پا جائے ۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ اعلیٰ مذہب کونسا ہے اور کس کا عقیدہ اعلیٰ درجہ کا ہے۔ ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ گناہ کو چھپا رکھنا یہ سخت کینه توزی کی علامت ہے اور ایسی ہی عادت ہے جیسے کہ بنے روپیہ قرض دیگر بہت سا روپیہ تو وصول کر لیتے ہیں اور کچھ تھوڑا سا باقی رکھتے ہیں پھر اس کو چند سالوں کے بعد سود سمیت بہت بڑھا کر وصول کر لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی بات منسوب کرنی سخت ظلم ہے۔ لیکن اس کے مقابلہ میں اسلام کی تعلیم کہ جس شخص کو ضرور ہی سزا دینی ہو اس کو پہلے اس کے برے عملوں کی سزادی جائے اس کے بعد اس کی نیکیوں کا بدلہ دینا شروع کیا جائے تاکہ وہ ابدی نجات پا جائے ۔ کیسی رحم کی تعلیم اور کس قدر خوبصورت عقیدہ ہے! مذکورہ بالا آیات کے علاوہ اور آیات بھی نجات کے عام ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالی دوزخ کے متعلق فرماتا ہے ۔ وَأَمَّا مَنْ خَفَتْ مَوَازِينُهُ فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ ٣٥ کہ جن کو سزا دی جائے گی ان کی ماں ہادیہ ہو گی وہ اس کے پیٹ میں ڈالے جائیں گے۔ ماں کے پیٹ میں بچہ کیوں رکھا جاتا ہے ؟ اس لئے کہ اس دنیا میں زندہ رہنے کی طاقت آجائے اور اس کی کمزوری دور ہو جائے اسی طرح جہنم رکھا گیا ہے تاکہ وہاں انسان کی کمزوری دور ہو ۔ جہنم کو خدا تعالٰی نے ظلمت قرار دیا ہے اور رحم کو بھی ظلمت کہا گیا ہے اور جس کی آنکھیں خراب ہوں اس کے لئے ضروری ہے کہ اسے اندھیرے میں رکھا جائے تاکہ اس کی آنکھوں میں نور کو دیکھنے کی طاقت آجائے ۔ پر فرماتا ہے فَأَمَّا الَّذِينَ شَقُوا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرُ وَ شَهِيقٌ خَلِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمُوتُ وَالْأَرْضُ إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ إِنَّ رَبَّكَ فَقَالَ لِمَا يُرِيدُه وَإِمَّا الَّذِينَ سَعِدُوا فَفِي الْجَنَّةِ خَلِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَوتُ وَالْأَرْضُ إِلَّا مَا شَاءَ رَبُّكَ عَطَاءَ غَيْرَ نجات