انوارالعلوم (جلد 7) — Page 77
۷۷ نجات ۳۳۔اس میں اللہ تعالیٰ ٰفرماتا ہے۔اگر کسی نے ذرہ بدی با نیکی کی ہوگی تو اس کا محاسبہ کیا جائے گا اب بدی کی وجہ سے جب انسان جہنم میں چلا گیا اور ابدالاباد تک اسی میں رہا تو نیکیوں کا بدلہ کب پائے گا؟اس لئے ضروری ہے کہ وہ نجات پائے۔یہاں آریوں سے اسلام کا عجیب مقابلہ پڑتا ہے انہوں نے عجیب عقیدہ بنایا ہے کہ وہ کہتے ہیں پرمیشور پر ایک روح کا ایک گناہ رکھ چھوڑتا ہے اور نجات پہلے دے لیتا ہے پھراس گناہ کی وجہ سے سزادیتا ہے۔گویا اسلام تو یہ کہتا ہے کہ خدا گناہوں کی سزا پہلے دیتاہے اور پھر نجات دیتا ہے مگر آریہ کہتے ہیں انعام پہلے دیتا ہے اور عذاب پیچھے تاکہ روح ابدی نجات نہ پا جائے۔اب یہ دیکھنا ہے کہ اعلیٰ مذہب کونساہے اور کس کا عقید و اعلیٰ درجہ کا ہے- ہرا یک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ گناہ کی چھپار کھنایہ سخت کینہ توزی کی علامت ہے اور ایسی ہی عادت ہے جیسے کہ بنئے روپیہ قرض دیکر بہت سارو پیہ تو وصول کر لیتے ہیں اور کچھ تھوڑا ساباقی رکھتے ہیں پھر اس کو چند سالوں کے بعد سود سمیت بہت بڑھا کر وصول کر لیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ٰکی طرف ایسی بات منسوب کرنی سخت ظلم ہے۔لیکن اس کے مقابلہ میں اسلام کی تعلیم کہ جس شخص کو ضرورہی سزا دینی ہو اس کو پہلے اس کے برے عملوں کی سزا دی جائے اس کے بعد اس کی نیکیوں کا بدلہ دینا شروع کیا جائے تاکہ وہ ابدی نجات پا جائے۔کیسی رحم کی تعلیم اور کس قدر خوبصورت عقیدہ ہے؟ مذکورہ بالا آیات کے علاوہ اور آیات بھی نجات کے عام ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔چنانچہ اللہ تعالی ٰدوزخ کے متعلق فرماتا ہے۔واما من خفت موازینہ فامہ ھاویة ۳۵ کہ جن کو سزا دی جائے گی ان کی ماں ہاویہ ہو گی وہ اس کے پیٹ میں ڈالے جائیں گے۔ماں کے پیٹ میں بچہ کیوں رکھا جاتا ہے ؟ اس لئے کہ اس دنیا میں زندہ رہنے کی طاقت آجائے اور اس کی کمزوری دور ہو جائے اسی طرح جہنم رکھا گیا ہے تاکہ وہاں انسان کی کمزوری دور ہو جہنم کو خد اتعالیٰ نے ظلمت قرار دیا ہے اور رحم کو بھی ظلمت کہاگیا ہے اور جس کی آنکھیں خراب ہوں اس کے لئے ضروری ہے کہ اسے اندھیرے میں رکھا جائے تاکہ اس کی آنکھوں میں نور کو دیکھنے کی طاقت آجائے۔پھر فرماتا ہےفَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَؕ-اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَؕ-عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ