انوارالعلوم (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 663

انوارالعلوم (جلد 7) — Page 71

انوار العلوم - جلدے 41 نجات غرض اس حدیث میں یہ نہیں بتایا گیا کہ نیک بد اور بد نیک نہیں ہو سکتا بلکہ یہ کہ جو خلق کفر میں نمایاں ہوں گے وہی اسلام میں بھی نمایاں ہوں گے ۔ مثلاً جو کفر میں سختی کرتا تھا وہ اسلام میں بھی اس صفت کو زیادہ استعمال کرے گا گونیک طور پر ۔ یا جو کفر میں نرم طبیعت رکھتا تھا وہ اسلام میں بھی اسی طبیعت کا رہے گا گو وہ نرمی کو نیک طریق پر استعمال کرنے لگے گا۔ مثال کے طور پر حضرت عمر اور حضرت ابو بکر کو لے لو۔ حضرت عمر حالت کفر میں سخت طبیعت تھے اور حضرت ابوبکر اسلام سے پہلے بھی نرم طبیعت کے تھے۔ اسلام نے ان دونوں کو نیک تو بنا دیا اور تقوی کی اعلیٰ راہوں پر تو چلا دیا لیکن ان کی طبیعتوں کو نہیں بدلا۔ حضرت عمر اسلام میں بھی اپنی اسی طبیعت پر قائم رہے جس پر کفر میں تھے اور اسی طرح حضرت ابو بکرہ لیکن فرق یہ تھا کہ اسلام سے پہلے ان کی سختی اور نرمی غلط طور پر استعمال ہوتی تھیں یا ہو سکتی تھیں مگر اسلام میں آکر وہ اعلیٰ مقاصد میں استعمال ہونے لگیں۔ عمرہ سخت کے سخت ہی رہے اور ابوبکر نرم کے نرم ۔ لیکن دونوں ہی اپنی حالت کو چھوڑ کر نیکی کا مجسمہ بن گئے پس اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ طبیعت نہیں بدل سکتی یا یہ کہ مشکل سے بدل سکتی ہے اس لئے جہاں تک ہو سکے طبیعت کے مطابق کسی کو کام سپرد کرنا چاہئے۔ نجات کے متعلق ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا گناہ کے گناہ کے طبعی نتیجہ سے نجات طبیعی نتیجہ سے نجات ہو سکتی ہے؟ قرآن کریم کہتا ہے کہ ہو سکتی ہے۔ چنانچہ آتا ہے أُولئِكَ جَزَاؤُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِمْ لَعَنَةَ اللَّهِ وَالْمَلِئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ خْلِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفِّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلِحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ۔ بعض انسان گناہ میں ترقی کرتے کرتے یہاں تک پہنچ جاتے ہیں کہ ان پر خدا اور ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت پڑنے لگتی ہے۔ وہ اس کے اندر ہمیشہ رہتے ہیں اور ان سے عذاب کم نہیں کیا جاتا اور نہ ان کو مہلت ملتی ہے مگر تو بہ سے یہ بات بدل جاتی ہے اور انسان گناہ کی طبعی سزا سے بیچ جاتا ہے یعنی لعنت یا خدا سے دوری سے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ اس آیت میں گناہ کی طبعی سزا کا ذکر ہے جو خدا تعالیٰ سے دور ہو جانا یا گناہوں میں بڑھ جاتا ہے نہ کہ شرعی سزا کا جو دوزخ یا دوسری تکالیف ہیں ۔