انوارالعلوم (جلد 7) — Page 67
۶۷ نجات طبعی تکالیف سے نجات تکالیف دنیاوی کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ طبی تکالیف سے نجات نہیں ہوسکتی۔مثلاً یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی انسان تپ وغیرہ سے بچ جائے ہاں کبھی جب یہ طبعی تکالیف بہت بڑھ جاتی ہیں تو اس وقت اگر انسان خدا تعالیٰ کی طرف جھکے تو خدا ان سے بھی نجات دے دیتا ہے مگر یہ کلی طور پر نہیں ہوتا بعض میں ہو سکتاہے۔چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے۔وإذا سالک عبادی عتی عنی فانی قريب أجيب دعوة الداع اذا دعان۔’’ کہ میں پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہوں اور رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں۔لکل داء دواء۔کہ ہربیماری کی دوا ہے تو یہ تکالیف دعاسے بھی دور ہو جاتی ہیں اور علاج سے بھی۔کیا ضمیر کے عذاب سے نجات ہو سکتی ہے اب یہ سوال ہو سکتاہے کہ کیا ضمیر کے عذاب سے بھی نجات مل سکتی ہے؟ یہ ایک ایسی بات ہے کہ اسلام اور دوسرے مذاہب میں فرق کرنے والی ہے۔دوسرے مذاہب اس عذاب کو پیدا کرتے ہیں مگر اسلام اس کو دور کرتاہے۔مثلاً عیسائیوں میں کفارہ کا مسئلہ ہے اور آریوں میں نیوگ کا مسئلہ - ان مسائل کی وجہ سے جو جلن ان کے دلوں میں پیدا ہوتی ہے وہ ان کے مذہب نے پیدا کی ہے اور اسلام ان مسائل کی تردید کر کے اس جلن کو دور کرتا ہے۔اسلام اس کے لئے ایسا علاج کرتا ہے کہ کہتا ہے دوسروں سے جا کر پوچھ لو کہ میں اپنے ماننے والوں کو کیسا آرام دیتا ہوںر بمايود الذين كفروالو كانوا مسلمين۔۔بہت دفعہ کافر اپنے دلوں میں حسرت کرتے ہیں کہ کاش وہ ان مسائل کے ماننے والے ہوتے اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان ہو جائیں اس سے انہیں کون روکتا تھا ؟بلکہ یہ یہ مطلب ہے کہ وہ خواہش کرتے تھے کہ کاش یہ عقیدے جو مسلمانوں کے ہیں ہمارے ہوتے۔وہول میں کڑھتے تھے کہ ہمارے مذہب کی ایسی تعلیم کیوں نہ ہوئی جیسی اسلام کی ہے۔مثلاً آریہ کہتے ہیں کہ نیوگ کی تعلیم اگر ویدوں کی بجائے قرآن میں ہوتی تو ہم مسلمانوں کی کیسی خبر لیتے اور آج جو اعتراض میر قاسم علی صاحب ہم پر کرتے ہیں وہ ہم ان پر کرتے۔تو قرآن کریم اس ضمیر کے عذاب سے بھی نجات دلاتا ہے۔پادری فنڈر جو اسلام کا سخت دشمن تھا۔حضرت مسیح موعودؑ نے اس کا ایک حوالہ دیا ہے اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے دل میں کیسا کڑھتا تھا۔وہ کرتا تو اسلام پر حملہ ہے مگر لکھتا ہے کہ جہاں عیسائیت نہیں پہنچی وہاں کے لوگوں سے اگر خدا پوچھے گاتویہی پوچھے گا کہ تم نے اسلامی خدا کو کیوں نہیں مانا؟ کیونکہ عیسائیت کا