انوارالعلوم (جلد 7) — Page 65
انوار العلوم - جلدے ۶۵ نجات (۳) عذاب جس انسان پر نازل کیا جاتا ہے اس کے دل میں مایوسی اور گھبراہٹ ہوتی ہے مگر جس پر ابتلاء نازل ہوتا ہے اس کے دل میں اطمینان اور تسلی ہوتی ہے۔ جب عذاب نازل ہوتا ہے تو مغضوب کہتا ہے ہائے میں ہلاک ہو گیا یا اگر وہ اس ابتلاء سے گھبراتا نہیں تو اس کے دل میں کبر اور خود پسندی کے جذبات جوش مارنے لگتے ہیں اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ مجھے کون ہلاک کر سکتا ہے؟ لیکن جب ابتلاء آتا ہے تو انسان کہتا ہے کوئی پرواہ نہیں میں کمزور اور بے کس ہوں لیکن میرے بچانے والا طاقتور ہے اور وہ خدا تعالٰی پر یقین میں اور بھی ترقی کر جاتا ہے اور خدا تعالی پر اس کی حسن ظنی بہت بڑھ جاتی ہے۔ (۴) عذاب کے دور کرنے کی انسان جب کوشش کرتا ہے تو ٹھوکریں کھاتا جاتا ہے مگر جس پر ابتلاء آتا ہے اس کا فہم رسا ہو جاتا ہے اور وہ بات کو خوب سمجھنے لگ جاتا ہے۔ رسول کریم کے متعلق ہی دیکھ لو کفار آپ کا کھوج لگاتے لگاتے غار حرا تک پہنچ گئے اور وہاں جا کر کھوجی نے کہہ دیا کہ یا تو وہ آسمان پر چلا گیا ہے اور یا یہیں ہے۔ ان میں کھوجی کی بات کا بڑا لحاظ کیا جاتا تھا اس لئے رسول کریم ا کی جان اس وقت سخت خطرہ میں تھی مگر رسول کریم اے کو ذرہ بھی گھبراہٹ نہ ہوئی۔ آپ نے باوجود اس کے کہ آپ کی جان کفار کو اصل مطلوب تھی اور ابوبکر کو صرف اس لئے تلاش کرتے تھے کہ وہ آپ کی مدد کرتے تھے۔ آپ نے ابوبکر کو تسلی دینی شروع کی اور کہا کہ لا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا ۱۳۔ ڈرو نہیں اللہ تعالٰی ہمارے ساتھ ہے۔ اسی طرح کل ہی میں نے سنایا تھا آپ سوئے ہوئے تھے کہ ایک کافر نے آپ کی تلوار اٹھالی اور آپ کو قتل کرنا چاہا لیکن آپ ذرہ بھی نہ گھبرائے اور اس کے سوال پر کہ اب آپ کو کون بچا سکتا ہے؟ نہایت تسلی سے جواب دیا کہ ”اللہ "۔ اس غیر معمولی حالت اطمینان کو دیکھ کر اس کا فر پر اس قدر دہشت طاری ہوئی کہ اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی ہے۔ (۵) پانچواں فرق یہ ہے کہ ابتلاء میں انسان کو احساس بلاء نہیں ہوتا جب ابتلاء آتا ہے تو انسان ان تکالیف کو حقیر سمجھتا ہے اور ان میں لذت محسوس کرتا ہے کیونکہ اس کے دل میں خیال ہوتا ہے کہ میں ادنی چیز کو اعلیٰ پر قربان کر رہا ہوں۔ مثلاً اگر اس کا مال جاتا ہے تو کہتا ہے خدا کے لئے ہی جاتا ہے اس لئے کیا پرواہ ہے ۔ یا اگر اس کا بیٹا مر جاتا ہے تو کہتا ہے خدا ہی کے لئے ہے اس کا کیا غم ہے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کا ہی ایک واقعہ ہے مبارک احمد سے آپ کو بڑی محبت تھی اور اس کی بیماری میں آپ نے بڑی تیمار داری کی۔ اس سے حضرت خلیفہ اول تک